میں نے اپنی بیوی کو غصے میں آکر دو بار طلاق بول دیا، اب میں رجوع کیسے کرسکتاہوں ؟کیا میں کال پر رجوع کر سکتا ہوں؟ کیونکہ مجھے گھر آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
سائل نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے طلاق دیتے وقت کیا الفاظ بولے تھے ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم سائل نے اگر صرىح الفاظ مثلاً"طلاق ديتا ہوں وغیرہ" كے ذرىعہ واقعۃ بىوى كو دو طلاقیں ہی دى ہوں تو اس سے سائل كى بىوى پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد سائل کو دورانِ عدت رجوع کا اختیار حاصل ہے، چنانچہ سائل اگر کال کرکے زبانی طور پر بھی رجوع کے الفاظ مثلا"تم میری بیوی ہو،میں تم سے رجوع کرتاہوں وغیرہ " بیوی سے کہہ دے تو اس سے بھی رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرارر ہے گا، تاہم زبان سے رجوع کرتے وقت دو گواہ بھی بنالیے جائیں اور ان کے سامنے رجوع کے الفاظ بولے جائیں تو زیادہ بہتر ہے،جبکہ سائل کے پاس آئندہ کیلئے صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہیگا بشرطیکہ اس سے قبل طلاق نہ دی ہو ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہىے۔
ففي الهداية: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها اهـ [کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2 ص:254 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)]
وفي الفتاوى التاترخانية: م: إذا أراد الرجل أن يراجع امرأته فالأحسن أن يراجعها بالقول لا بالفعل، وفى الظهيرية: والرجعة بالقول أن يقول: رجعتك، أو: راجعتك، أو: رددتك، أو: أمسكتك، وفي السغناقي: في الحضرة أو الغيبة. الظهيرية: أو يقول بالفارسية: باز أو ردمت، أو: نگاه دارم ترا، وفي الهداية: والرجعة أن يقول: راجعتك، أو: راجعت امرأتي؛ وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة اهـ (كتاب الطلاق، الفصل الثاني والعشرون في مسائل الرجعة، ج:5 ص:138 ط: رشيدية)