کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری ہمشیرہ کی شادی کو تقریبا تین سال کا عرصہ ہو چکا ہے، شروع سے ہی میری ہمشیرہ پر ان کے شوہر کو تشدد کرنا، مارنا، پیٹنا اور غلط طریقے سے ہمبستری کرنا( پچھلی سائیڈ سے) کئی بار ہو چکا ہے اور بار بار سمجھانے کے باوجود صلح کروا کر پھر دوبارہ تشدد شروع کر دیتا ہے اور تین تاریخ کو میری ہمشیرہ اس کو چھوڑ کر آگئی ہے، زبردستی غلط طریقے سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے، وہ اس دن اس کو چھوڑ کر آگئی ہے۔ میری ہمشیرہ کا ایک بیٹا بھی ہے۔ تین تاریخ کو اسی غلط کام پر زبردستی کرنے کی وجہ سے جھگڑا ہوا تو اس کے گھر سے نکال دیا اور بچہ واپس لے لیا ،اس وقت اس نے یہ الفاظ بھی بولے کہ ''میرے گھر سے جاؤ دوبارہ میرے گھر نہیں آنا'' اور ابھی تک والدہ کے پاس ہے، اب ہم چاہتے ہیں کہ میری ہمشیرہ کا شوہر اس کو چھوڑ دے، قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
نوٹ : میری ہمشیرہ سے اس کے شوہر نے جو حق مہر میں سونا دیا تھا ،وہ بھی اس نے لے لیا ہے، اس کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں ؟
واضح ہو کہ وطی فی الدبر (پچھلی جانب سے ہمبستری) جیسی گھناؤنی حرکت فطرتِ سلیمہ کے خلاف اور صفتِ حیوانیت میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ اس عمل کی شدید قباحت اور انتہائی ناپسندیدگی کے پیش نظر احادیث مبارکہ میں اس کے مرتکب پر لعنت وارد ہوئی ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص سے براءت کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ لہٰذا اس شنیع فعل کے ارتکاب کی وجہ سے شوہر پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس ناجائز عمل سے مکمل اجتناب کرے۔
جہاں تک شوہر کے اس جملے: ’’میرے گھر سے جاؤ، دوبارہ میرے گھر نہیں آنا‘‘ کا تعلق ہے، تو اگر یہ الفاظ کہتے وقت شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی تو اس سے سائل کی بہن پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے اور عورت ایام عدت گزرانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔ البتہ اگر اس کی نیت طلاق دینا نہ تھی بلکہ محض دھمکی دینا یا غصے کا اظہار مقصود تھا جس پہ وہ حلف(قسم ) اٹھانے کیلئے بھی تیار ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔اورایسی صورت میں اگر شوہر اپنی بیوی پر مسلسل تشدد کرتا رہا، اسے مارتا پیٹتا رہا، اور ناجائز طریقے سے ہمبستری پر مجبور کرتا رہا، نیز بارہا سمجھانے اور صلح کی کوششوں کے باوجود اس کی روش میں کوئی تبدیلی نہ آئی، اور میاں بیوی کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہی، تو ایسی حالت میں سائل کی ہمشیرہ کے لیے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے۔جبکہ شوہر نے جو سونا حقِ مہر کے طور پر اپنی بیوی کو دیا تھا، وہ مہر ادا ہونے کے بعد بیوی کی ملکیت بن چکا ہے، لہٰذا شوہر کے لیے اسے واپس لینا قطعاً جائز نہیں۔ البتہ اگر شوہر مہر کے عوض خلع دینے پر راضی ہو جائے ،تو پھر اسے خلع کے عوض مہر کا سونا واپس لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
کما فى مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ملعون من أتى امرأته في دبرها رواه أحمد وأبو داود اھ (باب المباشرۃ الفصل الثانی: ج:2،ص: 953،الرقم :3193، مط: المكتب الإسلامي – بيروت ) ۔
وفیه أیضاً: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ) الْآيَةَ: «أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه (باب المباشرۃ الفصل الثانی: ج:2،ص:953،الرقم :3191،مط: المكتب الإسلامي – بيروت)۔
وفی أحكام القرآن للجصاص :وقوله تعالى وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا الآية قد اقتضت هذه الآية إيجاب المهر لها تمليكا صحيحا ومنع الزوج أن يأخذ منها شيئا مما أعطاها وأخبر أن ذلك سالم لها سواء استبدل بها أو أمسكها وأنه محظور عليه أخذ شيء منه إلا بما أباح الله تعالى به أخذ مال الغير في قوله تعالى إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم وظاهره يقتضي حظر أخذ شيء منه بعد الخلوة فيحتج به في إيجاب كمال المهر إذا طلق بعد الخلوة لعموم اللفظ في حظر الأخذ في كل حال إلا ما خصه الدليل وقد خص قوله تعالى وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم(إلیٰ قوله)وهذه الآية أيضا تدل على أنه إذا دخل بها ثم وقعت الفرقة من قبلها بمعصية أو غير معصية أن مهرها واجب لا يبطله وقوع الفرقة من قبلها اھ (سورۃالنساء آیۃ 31 ج:3،ص:47،48،مط: دار إحياء التراث العربي – بيروت)۔
وفي المبسوط للسرخسي قال: ولو قال لامرأته: اذهبي فتزوجي، فإن كان نوى طلاقا فهو طلاق، وإن نوى ثلاثا فثلاث، وإن نوى واحدة فواحدة بائنة، وإن لم يكن له نية فليس بشيء؛ لأن كلامه محتمل فلا يتعين معنى الطلاق فيه إلا بالنية، وهو محتمل للطلاق؛ لأنه ألزمها الذهاب من بيته ، الخ ( باب طلاق الاخرس ج:6 ص: 143 مط : مطبعة سعادة) ۔
وفی رد المحتار على الدر المختار: ويجب لو فات الإمساك بالمعروف الخ (کتاب الطلاق ج:3،ص:229،مط: دار الفكر – بيروت)۔
وفی الھندیة :إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. ( الباب الثامن في الخلع ج:1، ص:488، مط: دار الفكر بيروت)۔