السلام علیکم!جناب عرض ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی سوتیلی بیٹی(یعنی بیوی کےپہلےشوہر کی لڑکی )کو چھولیتا ہےشہوت یا شیطانی وسوسے میں آکر اور اس سے زیادہ کچھ نہ ہو ،تو اس سے میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیایا نہیں ؟اور اگر نکاح ختم ہوگیا تو دونوں اگر ساتھ رہنا چاہیں تو اس کا کوئی حل ہے ؟جس سے دونوں گھر بسائےرہےیا اس کا کوئی ازالہ ہے؟ تو اس کا فتوی دے دیں۔شکریہ!
واضح ہو کہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لئے کسی بالغہ یا مراہقہ ( قریب البلوغ) لڑکی کے جسم کو بغیر کسی حائل (یعنی موٹاکپڑا یا کمبل وغیرہ)کے چھولے،نیزچھوتے وقت شہوت کا پایا جانا بھی ضروری ہے،اور اگر شہوت پہلے سے موجود ہوتو چھوتے وقت اس میں اضافہ ہونا شرط ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اپنی سوتیلی بیٹی کو شہوت کے ساتھ بلا حائل چھولیا ہو یا شہوت پہلے سے موجود ہو، چھونے کے بعد اس میں اضافہ ہواہو ،تو اس سے ان دونوں کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے،جس کی وجہ سے اس لڑکی کی ماں ( یعنی مذکور شخص کی بیوی) اس شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ہے ، اب ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا کسی بھی صورت شرعاً جائز نہیں ہے ، لہذا س کو چاہیئے کہ وہ فوراً اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی بیوی سے متارکت کے الفاظ (یعنی میں نے تمہیں چھوڑ دیا ، تمہیں آزاد کردیا وغیرہ ) بھی کہہ دے ، تاکہ وہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکے ، جبکہ مذکور شخص کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر اللہ تعالی کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کرلے ، تاکہ مواخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل ہوسکے۔
کما في الدر المختار: (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى الخ (باب المحارم،ج:3،ص:32-33،ط:سعيد)
و في الفتاوى الهندية : ولو مس ظفرها بشهوة تثبت، كذا في الخلاصة. ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة اھ( القسم الثاني المحرمات بالصهرية ،ج:1،ص:274،ط:دار الفكر، بيروت)-
وفي مجمع الانهر: فلو مس بغير شهوة ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه وما ذكر في حد الشهوة من أن الصحيح أن تنتشر الآلة، أو تزداد انتشارا كما في الهداية وغيرها.وفي الخلاصة وبه يفتى اھ(باب المحرمات،ج:1،ص:327،ط:دار الاحیاء التراث)