میرا نام لالہ رخ ہے،شوہرکا نام عزیر قریشی ہے،والد کانام ندیم ہے،میری شادی میرے ماموں کے بیٹے سے 2009۔12۔12 میں ہوئی، شادی کے کچھ سال بعد ہمارے اختلاف کی وجہ سے میرے شوہر نے مجھے تین سال پہلے دو(2)طلاق دی،طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ”میں تمہیں طلاق دیتاہوں “ اس کے بعد ہم نے دوبارہ دو تین دنوں میں رجوع کرلیاتھا، پھر کچھ عرصے کے بعد میرے شوہر نے مجھے بہت مارا،پیٹا اور مجھے ایک ماہ پہلے دو طلاق مزید دیدی ،طلاق کے الفاط:”لالہ رخ! میں تمہیں طلاق دیتاہوں، لالہ رخ !میں تمہیں طلاق دیتاہوں “۔اب میرا شوہر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ انہوں نے مجھے طلاق دی ہے،3 سال کے پہلے کی طلاق کو وہ نہیں مان رہے،اب کی طلاق کو صرف مان رہےہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے دوطلاق دی ہے ، اب آپ مجھے اس مسئلہکا بتائیں کہ میری طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔
نوٹ۔شوہر پنڈی میں ہے،آنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے،اور نہ ہی میرا فون نمبر اٹھا رہے ہیں ۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے شوہرنےاگرواقعۃًایک ماہ پہلے دو دفعہ صریح الفاظ "لالہ رخ میں تمہیں طلاق دیتاہوں "سے سائلہ کوطلاق دی ہواوراس کامقربھی ہو،توان الفاظ سے سائلہ پر دوطلاقیں واقع ہوچکی ہیں،البتہ سائلہ تین سال پہلےجن دو طلاقوں کا دعویٰ کررہی ہے، اگراس کے پاس اپنے اس دعوے پر شرعی گواہان موجود نہ ہوں ،اور شوہراس سے انکاری اورقسم اٹھانے پرآمادہ ہو،اورقبر و آخرت کی جواب دہی کے لئےتیارہے،تو ایسی صورت میں قضاءطلاق واقع نہ ہوگی،یعنی یہ معاملہ اگر مسلمان قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر سائلہ کو اس کے ساتھ روانہ کردے ،تو ایسی صورت میں سائلہ اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی،لیکن جب اس نے اپنے کانوں سےطلاق کے الفاظ سنے ہوں ،توایسی صورت میں”المرأۃ کالقاضی “ کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے سائلہ پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے،بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
كما في سنن الترمذي: عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته:البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه(باب ما جاء في أن البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه،ج:١،ص:٥١٨،مط:البشرى)
وفي رد المحتار: ويقع قضاء إلا أن يكون مكرها والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله(باب صريح الطلاق،ج:٣،ص:٣٥١،مط:سعيد)
وفي البحر الرائق : ويقع قضاء إلا أن يكون مكرها، والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث(باب ألفاظ الطلاق،ج:٣،ص:٢٥٧،مط:رشيديه)
وفيه ايضاََ: (قوله ولغيرها رجلان أو رجل وامرأتان) للآية أطلقه فشمل المال وغيره كالنكاح والطلاق والوكالة والوصية والعتاق والنسب(كتاب الشهادات،ج:٧،ص:٦٢،مط: رشيديه)
و في فتح القدير :وكل ما لا يدينه القاضي إذا سمعته منه المرأة أو شهد به عندها عدل لا يسعها أن تدينه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر(باب إيقاع الطلاق،ج:٣،ص:٣٥٣،مط:رشيديه)