کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں؟میری بیوی کسی دوسرےآدمی سے بات کرتی تھی، جس سے میں نے اسے منع بھی کیا، لیکن وہ باز نہ آئی۔ تو میں نے ان کو یہ الفاظ بولے کہ :"اگر تم نے دوبارہ اس لڑکے سے بات کی تو تو مجھ پر طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔"یہ الفاظ کہتے وقت میں نشہ کی حالت میں تھا اور میں نے نشہ والی گولیاں بھی کھائی ہوئی تھیں۔ان الفاظ کے بعد میری بیوی نے دوبارہ اس لڑکے سے بات کی، اور خود اس نے مجھے بتایا کہ میں نے اس لڑکے سے بات کی ہے۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہماری طلاق واقع ہو گئی ہے؟ اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ نیز اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو کیا رجوع کی کوئی صورت باقی ہے یا نہیں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائں۔
نوٹ:اور میر ی بیوی نے دو بارہ اس لڑکے سے جو بات کی ہے وہ یہ تھی کہ آب مجھے فون نہ کیا کریں ،میرا گھر خراب ہو رہا ہے آپ کی وجہ سے۔
واضح ہو کہ نشے کی حالت میں بھی طلاق دینا یا اسے کسی شرط پر معلق کرنا شرعاً معتبر ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقدِ نکاح بھی ممکن نہیں؛ جبکہ بیوی ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت ِطلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ،مکروہِ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے حلالۂ بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الرد المختار: وفي النهر عن الجوهرة أن الخلاف مقيد بما إذا شربه للتداوي فلو للهو والطرب فيقع بالإجماع مطلب في الحشيشة والأفيون والبنج (قوله وحشيش) قال في الفتح: اتفق مشايخ المذهبين من الشافعية والحنفية بوقوع طلاق من غاب عقله بأكل الحشيش، وهو المسمى بورق القنب لفتواهم بحرمته بعد أن اختلفوا فيها. فأفتى المزني بحرمتها وأفتی۔اھ(مطلب في تعريف السكران وحكمه،ج:3،ص:239،ط: ایچ ایم سعید)
وفیہ أیضًا: تحت (قولہ أو سکران)وبه ظهر أن المختار قولهما في جميع الأبواب فافهم. وبين في التحرير حكمه أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق، والبيع والإقرار،اھـ (مطلب في تعريف السكران وحكمه،ج:3،ص:239،ط: دار الفکر)
و في الهندية:ألفاظ الشرط: إن … ومتی ومتی ما، ففي ہٰذہالألفاظ إذا وجد الشرط انحلت الیمین وانتہت الخ ( کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ونحوہ، الفصل الأول فی ألفاظ الشرط،ج:1،ص: 415، ط: ماجدیۃ)
و فیہ ایضاً: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق اھ۔( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ،ج :۱ ،ص :۳۵۵ ،ط: ماجدیہ)
و فی المبسوط للسرخسي:وإن قال لها: أنت طالق طالق طالق إن كلمت فلانا، فإن كان دخل بها تطلق اثنتين في الحال، والثالثة تعلقت بالكلام، وإن لم يكن دخل بها، طلقت واحدة في الحال ويلغو ما سواها؛ لأنه ما عطف التطليقات بعضها على بعض، ولو قال: إن كلمت فلانا فأنت طالق طالق طالق، فإن كان دخل بها تعلقت الأولى بالكلام، ووقعت الثانية، والثالثة في الحال، وإن لم يدخل بها، تعلقت الأولى بالكلام وتقع الثانية في الحال، والثالثة لغو.اھ(باب من الطلاق،ج:6،ص:129،ط:دار المعرفہ)