گزارش ہے کہ میری بیوی سے آج سے تین سال پہلے جھگڑا ہوا جس پر میں نے اس کو فون پر دو طلاقیں دی تھی ، گھر واپس آنے پر وائف نے بتایا کہ میں نے تین سنی ہے، جس پر اس کو شک ہے کہ طلا ق ہوچکی ہے؟ فون پر سگنل کا مسئلہ بھی تھا ، ابھی ہم الگ رہتے ہیں اور ہمارا ایک بیٹا بھی ہے دس سال کا جو کہ بہت پریشان ہے، تو مجھے اس پر فتوی معلوم کرنا ہے کہ ہماری طلاق ہوگئی ؟
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہوتاہے ، سوال کے سچ یاجھوٹ کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے ،نیز جھوٹ یا غلط بیانی سےفتوی حاصل کرلینے سےکوئی حرام حلال نہیں ہوتا،لہذاصورت مسئولہ میں سائل كابيان اگرحقيقت پرمبنی ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اوردروغ گوئی سے کام نہ لیاگیاہواس طورپر کہ سائل کی بیوی تین طلاقوں کا دعوی کر رہی ہے، جبکہ اس کے پاس اپنے اس دعوی پر شرعی گواہان موجود نہ ہوں اور سائل صرف دوبارصریح الفاظ ِطلاق سے طلاق دینے کا اقرار کررہا ہواور تیسری بارطلاق کے الفاظ اداکرنے کامنکرہواوراپنی اس بات پروہ حلف اُٹھانےکے لیے بھی تیارہو ، تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر قضاءً صرف دو رجعی طلا قیں واقع ہونے کاحکم لگےگا ،یعنی یہ معاملہ اگر عدالت چلا جائے اورقاضی عورت کے پاس شرعی گواہان نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر فیصلہ دیکر بیوی کو شوہر کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر جب اس کو اپنے کانوں سے تین طلاقیں سننے کا یقین ہو تو ایسی صور ت میں المرأة كالقاضی کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو چاہیے کہ شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ،بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ شوہر سے خلاصی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
و فیھا أيضاً: و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،اه(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل.(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق. ج: ٣، ص: ٢٨٣، مط: سعيد)
وفي رد المحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله. (باب صريح الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٥١، مط: سعيد)