کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم میاں بیوی کے نکاح کو تقریبا ًپانچ سال ہو گئے ہیں، جن سے ہماری ایک بیٹی ہے، اس دوران ہمارے درمیان دو بار طلاق کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں: میں بیوی اللہ تعالی کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ ایک سال پہلے میرے شوہر نے ہماری پڑوسن کو بلا کر دو بار کہا: آپ گواہ رہو میں اس کو طلاق دے رہا ہوں، پڑوسن کے سمجھانے پر یہ خاموش ہو گیا، اس کے بعد ہم دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہتے رہے، جبکہ ابھی 10 دن پہلے ہماری رات کے وقت بحث ہوئی ،اور لڑائی ختم کر كے سو گئے، میں صبح سوئی ہوئی تھی کہ میرے شوہر نے میری والدہ بہن کو فون کیا میں اس کو طلاق دے رہا ہوں، پھر میرے بھائی کو گھر لا کر مجھے اٹھایا کہ اٹھو ،میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، پھر میرے بھائی کو کہا کہ میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں ہو رہا، میں اس کو نہیں سنبھال سکتا، یہ میرے اوپر طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، اس کو لے جاؤ ۔
شوہر کا حلفیہ بیان: میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر ىہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا ،اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، پہلے موقع پر میں نے پڑوسن کو صرف سمجھانے کے لیے بلایا تھا، اس وقت بھی میں نے طلاق کے کوئی الفاظ نہیں بولے تھے، جبکہ دوسرے موقع پر صبح کے وقت میں نے صرف ایک مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں، كہ یہ میرے پر طلاق ہے، اس کے علاوہ میں نے مزید کوئی طلاق نہیں دی ہے۔
صبح کے وقت موقع پر موجود لڑکی کے بھائی کا بھی حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب مجھ پر ہوگا، صبح کے وقت میرے بہنوئی نے مجھے اپنے گھر بلا لیا، اور میرے سامنے میری بہن کو تین مرتبہ یہی مذکور ہ الفاظ بولے "دا مہ با طلاقہ دہ" ىہ میرے پر طلاق ہے، اپ معلوم کرنا ہے کہ اس حیثیت میں کتنی طلاق واقع ہوئی؟
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں بیوی شوہر کے خلاف اس كى جانب سے اسے مجموعى طور پر تین ىا تىن سے زائد طلاقیں دینے کا دعویٰ کررہی ہے،لیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے پر شرعی شہادت موجود نہیں ،جبکہ شوہر حالىہ واقعہ مىں اس كى طرف اىك طلاق دىے جانے پر تو متفق ہے، مگر تین طلاقیں دینے سے انکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المراۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی جب اسے تىن مرتبہ طلاق اپنے كانوں سے سننا ىاد ہو تو اُسے چاہیے کہ حتی الامکان شوہر كو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلكہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اس سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کما في الشامية: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله اهـ (كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:251، ط: سعید)
وفي البحر الرائق: وكذا إذا سمعت الطلاق منه وهو يجحد فحلفه القاضي وردها إليه لم يسعها المقام ولا أن تعتد وتتزوج بغيره اهـ [كتاب الكراهية، فصل في الأكل والشرب، ج:8 ص:214 ط: دار الكتاب الاسلامي]