ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی، میں نے چھوڑنے کا کہا تو میرے شوہر نے مجھے تین دفعہ "میں طلاق دیتا ہوں" پیپر پر لکھ کر دے دیا اور دوسرے دن آ کر وہ پیپر پھاڑ کر چلا گیا کہ نہیں ہوئی طلاق۔
(شوہر کا بیان)
ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں اُس نے پہلے فون پر زبردستی طلاق مانگی، پھر وہ گھر سے نکل کر باہر روڈ پر نکل گئی، مین روڈ پر بیٹھ گئی، پین اور کاغذ لے کر مجھ سے زبردستی لکھوانے میں پڑ گئی، نہ میرا دل اور دماغ سے دی ہے، اور نہ ہی زبان سے ایک لفظ بھی بولا، اس بات کو تقریباً 2 سال ہو گئے ہیں، میں نے یہ الفاظ لکھے تھے "میں طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کاغذ پر لکھ کر دے دیا تھا، پھر اگلے دن وہ کاغذ پھاڑ دیا، لیکن میں نے اُن کی زبردستی کرنے پر لکھا تھا، زبانی کچھ بھی نہیں بولا۔
صورت مسئولہ میں جب سائل نے بیوی کے مطالبہ پر طلاق کے جواب میں مذکور الفاظ"میں طلاق دیتا ہوں"کاغذ پر تین مرتبہ لکھ کر دیئے، تو اگر چہ انہوں نے یہ الفاظ برضا و خوشی نہیں لکھے، بلکہ بیوی کی بے حد اصرار اور دباؤ کی وجہ سے لکھے ہوں، تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اس لئے ان دونوں پر لازم ہے کہ فوراََ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، وگرنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ اس دوران عورت کے ایام عدت گزر چکے ہوں، تو وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
كمافي حاشية ابن عابدين:تحت(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ(مطلب في الطلاق بالكتابة، ج: ٢، ص: ٣٩٥، ط: سعيد)
وفي الدر المختار: قالت لزوجها: طلقني فقال فعلت طلقت، فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أخرى (كتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٩٤، مط: سيعد)
وفي رد المحتار تحت (قوله فقال فعلت) أي طلقت بقرينة الطلب اھ(كتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٩٤، مط: سيعد)
وفي الهندية: وفي المنتقى امرأة قالت لزوجها طلقني فقال الزوج قد فعلت طلقت فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أيضا روى إبراهيم عن محمد - رحمه الله تعالى - قيل لرجل أطلقت امرأتك ثلاثا قال نعم واحدة قال القياس أن يقع عليها ثلاث تطليقات ولكنا نستحسن ونجعلها واحدة(كتاب الطلاق، الباب الثاني في ايقاع الطلاق، ج: ١، ص: ٣٥٦، مط: سعيد)