السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میرا نکاح ہو چکا ہے، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی، میں نے ایک بار میسج پر اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور ایک بار میں اپنے دوست سے مذاق کر رہا تھا تو میں نے میسج میں طلاق کے الفاظ ٹائپ کیے، پھر اچانک مجھے یاد آیا کہ اس طرح بھی طلاق واقع ہو سکتی ہے، تو میں نے وہ میسج حذف (Remove) کر دیا۔ اس کے چند ماہ بعد میری بیوی نے کوئی ایسی حرکت کی تھی جس پر مجھے اب صحیح یاد نہیں کہ میں نے اسے کہا تھاکہ ”اگر آئندہ تم نے ایسی حرکت کی تو تم پر ایک ساتھ تین طلاقیں ہوں گی“ ، کافی عرصے بعد میری بیوی نے اپنے ہاتھ کی ویڈیو بنائی، جو مجھے ناگوار گزری۔ میں نے اسے ڈرانے کے لیے کہا: ”میں نے تمہیں منع کیا تھا، پھر بھی تم نے فضول حرکت کی“ ، لیکن ہاتھ کی ویڈیو بنانا وہ حرکت نہیں تھی جس پر میں نے پہلے تین طلاقوں کی شرط لگائی تھی۔ مجھے تو اپنا نکاح برقرار (قائم) نظر آتا ہے، لیکن میرے ذہن میں بار بار بے بنیاد قسم کے وسوسے آتے رہتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں نکاح کے بعد اگر سائل اور اس کی بیوی کو ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو کہ جس میں ہمبستری سے کوئی رکاوٹ نہ ہو (یعنی خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو) تو ایسی صورت میں جب سائل نے پہلی دفعہ میسج پر اپنی بیوی کو ایک طلاق لکھ کر دیدی تھی تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا تھا، چنانچہ پہلی طلاق کے بعد جو طلاقیں (خواہ معلق ہوں یا منجز) دی گئی ہیں، وہ لغو ہوچکی ہیں، لہذا عورت عدت گزارے بغیر فی الفور دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔ تاہم اگر سائل اور اس کی مطلقہ بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہوں تو اس کے لیے شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا، البتہ اس نکاح کے بعد آئندہ کے لیے سائل کو فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار حاصل رہے گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: «إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق» (1/ 373)
وفي الدر المختار: «(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق»
وفي حاشية ابن عابدين: «(قوله بانت بالأولى) أي قبل الفراغ من الكلام الثاني عند أبي يوسف وعند محمد بعده لجواز أن يلحق بكلامه شرطا أو استثناء ورجح السرخسي الأول والخلاف عند العطف بالواو وثمرته فيمن ماتت قبل فراغه من الثاني وقع عند أبي يوسف لا عند محمد وتمامه في البحر والنهر (قوله ولذا) أي لكونها بانت لا إلى عدة ح (قوله لم تقع الثانية) المراد بها ما بعد الأولى، فيشمل الثالثة (قوله بخلاف الموطوءة) أي ولو حكما كالمختلى بها فإنها كالموطوءة في لزوم العدة، وكذا في وقوع طلاق بائن آخر في عدتها، وقيل لا يقع والصواب الأول كما مر في باب المهر نظما وأوضحناه هناك (قوله حيث يقع الكل) أي في جميع الصور المتقدمة لبقاء العدة، ولا يصدق قضاء أنه عنى الأولى كما سيأتي في الفروع إلا إذا قيل له ماذا فعلت فقال طلقتها أو قد قلت هي طالق لأن السؤال وقع عن الأول فانصرف الجواب إليه بحر» (3/ 286)