السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ طلاق کے متعلق ایک مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق تقریباً 2 سے 2.5 سال پہلے دی تھی۔ میں نے اس وقت "طلاق، طلاق، طلاق" کہا تھا۔ دوسری طلاق تقریباً 5 سے 6 ماہ پہلے دی۔ اس وقت میں نے "طلاق، بائن طلاق" کہا تھا۔ دوسری طلاق کے بعد مقامی مولانا صاحب کے مشورے کے مطابق ہم نے نکاحِ جدید کیے بغیر دوبارہ اکٹھے رہنا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق اگر ایک ماہ کے اندر رجوع کر لیا جائے تو نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر گزشتہ 16 تاریخ کو میں نے دوبارہ صرف ایک مرتبہ "طلاق" کہا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اب میرے لیے اپنی اسی بیوی کے ساتھ کسی بھی صورت میں رہنا جائز ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی شرعی صورت کیا ہے؟ وضاحت: میری بیوی کا کہنا ہے کہ پہلی طلاق کے وقت وہ حاملہ تھیں، لیکن مجھے جہاں تک یاد ہے، پہلی طلاق کے تقریباً 1 سے 2 ماہ بعد وہ حاملہ ہوئیں۔ میری بیوی اور ان کے خاندان کا یہ بھی خیال ہے کہ حمل کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ کیا یہ بات درست ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما کر میری مدد فرمائیں۔
واضح ہو کہ بیوی کے حاملہ ہونے کی صورت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائل نے جب دو ڈھائی سال قبل اپنی بیوی کو پہلی مرتبہ ان الفاظ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کے ساتھ طلاق دیدی تھی تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی تھی، جبکہ بقیہ طلاقیں محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، چنانچہ اس کے بعد دونوں کا ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا شرعاً جائز نہیں تھا، جس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کریں اور ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، جبکہ سائل کی بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
ففي النتزيل العزيز: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [البقرة: 230]
وفي المبسوط للسرخسي: «(قال) وعدة الحامل أن تضع حملها ولو وضعت حملها بعد الطلاق بيوم لقوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] ولأن وضع الحمل أدل على ما هو المقصود وهو معرفة براءة الرحم من الأقراء» (6/ 15)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة، والأصل فيه قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] أي: انقضاء أجلهن أن يضعن حملهن، وإذا كان انقضاء أجلهن بوضع حملهن كان أجلهن؛ لأن أجلهن مدة حملهن،» (3/ 192)
وفي تبيين الحقائق: «ويسمى هذا النوع من الشبهة شبهة في الفعل لأن الملك والحق غير ثابت في هؤلاء اللاتي ذكرهن لأن حرمة المطلقة ثلاثا مقطوع بها فلم يبق له فيها ملك ولا حق غير أنه بقي فيها بعض الأحكام كالنفقة والسكنى والمنع من الخروج وثبوت النسب وحرمة أختها وأربع سواها وعدم قبول شهادة كل واحد منهما لصاحبه فحصل الاشتباه لذلك فأورث شبهة إن ظن حله لأنه في موضع الاشتباه فيعذر ولا فرق في ذلك بين أن يوقع الثلاث جملة أو متفرقا ولا اعتبار بخلاف من أنكر وقوع الجملة لكونه مخالفا للقطعي» (3/ 177)