طلاق

بیوی کا شوہر پر طلاق دینے کا دعوی کرنے اور شوہر کے انکار کا حکم

فتوی نمبر :
96693
| تاریخ :
2026-06-22
معاملات / احکام طلاق / طلاق

بیوی کا شوہر پر طلاق دینے کا دعوی کرنے اور شوہر کے انکار کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ (لڑکے کا بیان) میں اللہ کو حاضرناضر جان کر یہ حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو لڑائی جھگڑے کے دوران مذکور الفاظ "رہنا ہے رہو، نہیں رہنا تو ختم کرو" الفاظ ادا کیے، اس کے علاوہ کسی قسم کے کوئی الفاظ ادا نہیں کیے تھے، اگر میں اس بیان میں غلط بیانی سے کام لوں یا جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کا غضب اور قہر نازل ہو۔
لڑکی کا بیان: میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میرے شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران مذکور الفاظ آٹھ سے زائدبارکہے " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، ہوش وحواس میں،میں اپنی امی کے پاس رہنے کے لیے جارہاہوں ، تم نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے" اس سے پہلے بھی کئی بار اس نے مجھے یہ الفاظ بولے تھے، اور اکثر وہ یہ کہتا رہتا تھا کہ " میں تمہیں طلاق دیدونگا " اس لڑائی کے وقت گھر پرمیرے شوہر اور میرے بچوں اور میرے علاوہ کوئی موجودنہیں تھا، اگر میں اس بیان میں غلط بیانی سے کام لوں یا جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کا غضب اور قہر نازل ہو، کیا ہم دوبارہ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ،جھوٹ یاغلط بیانی سے فتوی حاصل کرلینے سے حرام ،حلال نہیں ہوجاتا، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران شوہر کایہ بیان کہ اس نےبیوی کوصرف مذکور الفاظ " رہنا ہے رہو، نہیں رہنا تو ختم کرو " کہے،اس کے علاوہ کوئی الفاظ نہیں کہے تھے،توان الفاظ سے اس کی بیوی پرشرعاًکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم بیوی چونکہ آٹھ سے زائدبار مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کہنے کادعوی کررہی ہے جبکہ شوہر اس سے انکاری ہے ، اور بیوی کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے ، جب ایسی صورت در پیش ہو کہ بیوی تین سے زائدبارالفاظِ طلاق کی مدعیہ ہو،لیکن اس کے پاس شرعی شہادت اصول وفروع کے علاوہ گواہ موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری اورقسم اٹھانے پرآمادہ ہو تو ایسی صورت میں قضاءً طلاق واقع نہ ہوگی، یعنی تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی شرعی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کر دے، تو ایسی صورت میں بیوی اگر چہ گنہگار نہ ہو گی، لیکن جب اس نے اپنے کانوں سے شوہر سے طلاق کے الفاظ سنے ہوں تو "المرأۃ کا لقاضی " کے اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية الخ (کتاب الطلاق ج 1 ص 376 ط: ماجدیہ)۔
و فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین: صریح و کنایۃ، فالصریح قولہ: أنت طالق، و مطلقۃ، و مطلقتک، فھذا یقع بہ الرجعی ( الی قولہ ) وأما الضرب الثانی ، وھو الکنایات، لا یقع بھا الرجعی الا بالنیۃ أو بدلالۃ الحال الخ ( کتاب الطلاق ج 2 ص 61 ط: انعامیہ )۔
و في البحر الرائق : والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه ( إلى قوله) أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصريح الخ، ج ۳، ۲۵۷،ط:ماجدية)-
و في الفتاوى الهندية : والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندنا الخ ( الباب الثاني في إيقاع الطلاق ج1،ص354،ط:ماجدية)۔
و في رد المحتار : تحت (قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن: بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا (إلى قوله ) و في الخلاصة : ولا يحل وطؤها إجماعاً بحر الخ (مطلب في القضاءبشهادةالزور،ج507،۵:سعيد)-
و في فتاوى قاضي خان : وهم أصناف ، صنف لا يكون كلامهم شهادة لعدم الأهلية وأهلية الشهادة إنما تكون بالعقل الكامل والضبط والولاية والقدرة على التمييز بين المدعي والمدعى عليه فلا تقبل شهادة الصبيان والمجانين ( إلى قوله) فلا ينعقد النكاح بحضرتهم وكذلك شهادة النساء وحدهن الخ ( كتاب الشهادة ، باب فيمن لا تجوز شهادتهم ، ج ۵، ص 4۲۱ ، ط : رشيدية)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96693کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات