ايک عورت نے مجھےمجبور کیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں، ورنہ میں کپڑے اتار دو ں گی، میں نے بولا، لیکن دل میں اللہ کو گواہ بنایا کہ یہ جو بھی میں بول ربا ہوں وہ میری نیت نہیں ہے۔ کیا طلاق ہو گئی؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل نے کن الفاظ سے کتنے طلاقیں دی ہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم وقوعِ طلاق کا تعلق چونکہ الفاظ سے ہے، اس لئے اگر سائل نے مذکور عورت کے اصرار پر طلاق کے واضح الفاظ بول دیئے ہوں، اگر چہ دل سے نہ کہے ہوں، تب بھی اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، تاہم وقوع ِطلاق اور اس کے احکام کی تفصیل الفاظِ طلاق اور تعدادِ طلاق کی نوعیت کے بدلنے سے مختلف ہوجاتے ہیں، اس لئے سائل کو چاہیئےکہ وہ الفاظِ طلاق اور تعدادِ طلاق کی وضاحت کرتے ہوئےسوال دوبارہ ارسال کردے، تو اس پر مکرر غور کرنے کے بعد ان شاءاللہ اس بابت حکم شرعی سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔
كما في حاشية الطحطاوى علي مراقي الفلاح: فالسماع شرط فيما يتعلق بالنطق باللسان (الى قوله) حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف اھ(باب شروط الصلاة وأركانها، ص: ٢١٩، ط: رشيديه)