میرے شوہر عباس نے اپنی پہلی بیوی نفیسہ کو تین مرتبہ طلاق دی تھی، لیکن نفیسہ نے کہا کہ "اس طرح طلاق نہیں ہوتی۔" کچھ عرصہ بعد عباس نے دوبارہ تین مرتبہ طلاق دی، تو نفیسہ نے پھر کہا کہ "جب تک گواہ نہ ہوں، طلاق واقع نہیں ہوتی۔"
پھر کورٹ کے ذریعے طلاق فائنل ہوئی۔ اب تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ بعد نفیسہ دوبارہ عباس کے پاس آکر رہنے لگی ہے۔ اس نے کہا کہ "ہم سب کچھ بھلا کر دوبارہ نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔" چنانچہ دونوں نے دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنا شروع کردیا ہے۔
میں نے آپ کے واٹس ایپ نمبر پر طلاق کے کاغذات اور عباس میمن کی وائس ریکارڈنگ بھی شیئر کردی ہے۔
براہِ کرم جلد از جلد شرعی رہنمائی فرمائیں، کیونکہ اگر ان کے درمیان نکاح شرعاً قائم نہیں ہے تو جتنے دن گزرتے جائیں گے، عباس گناہ میں مبتلا ہوتے رہیں گے۔
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں کا موجود ہوناشرعاً ضروری نہیں، بلکہ گواہوں کے بغیر بھی دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے اپنی پہلی بیوی مسماۃ نفیسہ کو تین طلاقیں دی ہیں جس کا وائس کلپ اور کاغذات کی صورت میں ثبوت بھی موجود ہے،تو ایسی صورت میں پہلی دفعہ تین طلاقیں دینے سے سائلہ کی سوکن مسماۃ نفیسہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،جبکہ اس کے بعد طلاق کے بقیہ الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئے ہیں،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے۔اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار بھی کریں۔
ففى تفسير القرطبي : قوله تعالى: (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره(3/147)۔
وفی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر (3/187)۔