میں طلاق کے مسئلے میں فتویٰ چاہتی ہوں، میرے شوہر نے غصے میں آکر فون پہ مجھے چھ سے سات دفعہ طلاق دی، اس کے بعد انہوں نے فون پر مجھ سے رجوع کرلیا،پھر جب لڑائی ہوئی ایک ہفتے میں پھر کہا کہ "میں نےتمہیں طلاق دے دی"کیا طلاق ہوگئی ہے؟ میں انکی دوسری بیوی ہوں، میں بہت پریشان ہوں اس بات کو لیکر۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے فون پر سائلہ کو چھ سے سات مرتبہ طلاق دی ہو تو سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی تھی، اور بقیہ الفاظ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئےہیں،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا،اور اس رجوع کا شرعاً کوئی اعتبار بھی نہیں،جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ج:5،ص:2014،ط:دار ابن الکثیر،رقم:4961)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔ (ج:1،ص:156، مط: ماجدیہ)