السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛مفتی صاحب! گزارش ہے کہ میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما کر فتویٰ جاری فرما دیں،مسئلہ کی تفصیل:کچھ دن پہلے میری اپنی اہلیہ کے ساتھ گھریلو ناچاقی اور بحث ہوئی، اس غصے اور لڑائی کی حالت میں، میں نے اکیلے بیٹھے ہوئے اپنے موبائل سے اہلیہ کو واٹس ایپ پر ایک میسج بھیجا، اس میسج کے اندر میں نے تین مرتبہ طلاق کا لفظ لکھا (یعنی طلاق، طلاق، طلاق)۔میسج سینڈ کرنے کے فوراً بعد میں خوف زدہ ہو گیا، اور میں نے وہ میسج فوراً ڈیلیٹ (Delete for Everyone) کر دیا، جس وقت میں نے یہ میسج لکھا اور بھیجا، میں کمرے میں بالکل اکیلا تھا ، اور وہاں کوئی گواہ موجود نہیں تھا، اور نہ ہی میری اہلیہ نے وہ میسج ڈیلیٹ ہونے سے پہلے پڑھا تھا،اب میں اپنی اس غلطی پر شدید نادم اور پریشان ہوں، اور ہماری ابھی عدت کی مدت بھی باقی ہے، میری اہلیہ بھی میرے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے ، اور ہم دونوں صلح کے لیے راضی ہیں، دریافت طلب امور:1۔ کیا اس طرح اکیلے میں میسج پر تین بار طلاق لکھنے اور فوراً ڈیلیٹ کر دینے سے طلاق واقع ہو گئی ہے؟ 2۔ اگر طلاق واقع ہوئی ہے، تو اس کی تعداد کیا ہے؟ یہ ایک طلاقِ رجعی شمار ہوگی یا تین طلاقیں مغلظہ واقع ہو چکی ہیں؟3۔ کیا میں عدت کے اندر اپنی اہلیہ سے رجوع (صلح) کر سکتا ہوں، یا ہمیں تجدیدِ نکاح کرنا پڑے گا، یا پھر صلح کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا؟براہِ کرم تفصیلی شرعی حکم سے نواز دیں، عین نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لئےبیوی کی موجودگی، یا بیوی کو طلاق کا علم ہونا ضروری نہیں،بلکہ اس کے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگرچہ اپنی اہلیہ کو واٹس ایپ پر "طلاق، طلاق، طلاق"کا پیغام لکھ کربھیجنے کے فوراً بعد اسے Delete for Everyone کردیاہو، تو اس ڈیلیٹ کردینے کے باوجوداس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایام ِ عدت گزرانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے اور وہ شخص اس سے کم از کم ایک مرتبہ حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر دوسراشخص اسے ایک مرتبہ کی ہم بستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے،البتہ اس کا پہلے انتقال ہوجائے،تو بہر صورت اس کی عدت گزرنےکے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے،یہ مکروہِ تحریمی ہےاوراس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے، البتہ بلاشرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (الٰی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ (کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ، ج:1، ص:378، ط:رشیدیۃ)۔