کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ مریم کوثر ولد عبد الخالق کا نکاح مسمیٰ محمد رمضان ولد رشید احمد کے ساتھ آج سے تقریباً سات مہینے پہلے ہوگیا تھا، میرے نکاح نامہ میں جو مہر ،گاڑی ،پلاٹ وغیرہ لکھیں گئیں تھیں،میں نے ایک دن ان سے مطالبہ کیا کہ وہ پلاٹ مجھے دکھاؤ گاڑی کے کاغذات میرے نام کردو اس پر وہ بہانے کر رہا تھا،تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر مجھے طلاق دیدو میرا مقصد طلاق نہیں تھا بس ایک تنبیہ تھی تا کہ یہ چیزیں میرے نام کردیں مجھے دکھائیں، لیکن وہ وکیل کو لیکر آیا طلاق نامہ خلع کے کاغذات بنائے اور اس میں وہ مہر کی چیزیں مجھ سے معافی کے لکھوائے، اور پھر اس پر خود بھی دستخط کئے اور مجھ سے بھی دستخط لئے اس میں خلع کا لکھا ہوا تھا، جس دن ہم نے کاغذات پر دستخط کئے اسی دن گھر آکر زبانی مجھے ایک طلاق دی''میں آپ کو ایک طلاق دیتا ہوں'' اور اس کے نو9 دن بعد پھر مجھے ایک طلاق دی''میں آپ کو طلاق دیتا ہوں'' اس کے گیارہ دن بعد پھر ہمارے درمیاں صلح ہوگیا، اور ہمارے درمیان ہمبستری بھی ہوئی، پھر مہر وغیرہ پر بات ہوئی اور مجھے پتہ چلا کہ اس نے تو مجھ سے مہر وغیرہ معاف کرادیا ہے، تو میں نے ان کو کہا کہ میں کراچی جانا چاہتی ہوں جب میں گاڑی میں بیٹھ گئی تو پھر مجھے یہ تحریر دی کہ عدالت کی طرف سے بھی ہماری بات ختم ہوگئی ہے آپ کا کوئی حق مجھ پر باقی نہیں رہا ، اور پھر میں وہاں سے اپنی بہنوں کے گھر کراچی آئی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے درمیان کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ،تحریر فرمائیں۔
(نوٹ: وکیل نےسائلہ سے کہا کہ میں نے آپ کے لئے خلع کے کاغذات تیار کیے ہے ، جس پر سائلہ نے کہا ٹھیک ہے ، اور آخر میں سائلہ نے بذات خود وکیل سے یہ کہا کہ طلاق اور خلع میں سے جو جلدی ہوتا ہے وہ کرلو، وکیل نے کہا خلع جلدی ہوجائیگا ، جس پرسائلہ نے ٹھیک ہے کہا ، اور پھر اس پر دستخط بھی کیے)
سوال کےساتھ ذکر کردہ نوٹ کے مطابق چونکہ سائلہ نے خود وکیل کو خلع اور طلاق میں سے جس کا پراسس جلد ہو اسے کرنے کا اختیار دیا تھا اور کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے اسے معلوم تھا کہ یہ خلع کے پیپرز ہے اس لئے صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہرنے حقِ مہر کی واپسی کا مطالبہ چھوڑنے کے عوض سائلہ کو خلع دیدیا اور سائلہ نے بھی تیار کرائے گئے خلع کے پیپرز پر دستخط کردئے تو مہر کی معافی کے عوض خلع لینے کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی اور اس عقد ِخلع کے نتیجہ میں سائلہ کا حقِ مہر کے مطالبہ کرنے کا حق بھی ساقط ہوچکا ہے،چنانچہ اس طلاق بائن کے بعد سائلہ کے شوہر نے خلع کے کاغذات پر دستخط کرنے والے دن اور اس کے نو دن بعد اگرمذکور الفاظ ''میں آپ کو طلاق دیتا ہوں'' کے ذریعہ دو مزید طلاقیں بھی دیدی ہوں ، تو اس سے مجموعی طور پر سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی تھی اور اس کے بعد دونوں کا بغیر حلالہ شرعیہ کےآپس میں صلح کرکے ساتھ رہنا جائز نہ تھا جتنا عرصہ وہ ساتھ رہے ہیں گناہ میں مبتلا رہے ہیں ، جس پر دونوں کو بصدق دل توبہ واستغفار لازم ہے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين الخ(«الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق بہ،ج:1،ص:488،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی الدر المختار:(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح)
وفی الرد تحت قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. وقال أيضا: قيدنا الصريح اللاحق للبائن بكونه خاطبها به وأشار إليها للاحتراز عما إذا قال كل امرأة له طالق فإنه لا يقع على المختلعة إلخ(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:306،ایچ ایم سعید)