کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندر جۂ ذيل مسئلہ میں کہ میرے شوہر نے تین معلق طلاق دی تھی، جس کے بعد شرط پائے جانے کی وجہ سے تین طلاق واقع ہو گئى تھى، طلاق كے واقع ہونے اور مسئلہ معلوم کرنے سمیت تقریبا دو مہینے دس دن بعد تھی، تىن ماہواریوں کے پورا ہونے سے پہلے پہلے میرے گھر والوں نے میرا نكاح میرے دیور سے کرا دیا تھا اور اس وقت حلالہ کی کوئی واضح مدت نہیں ہوئی تھى، بلکہ یہ سوچا تھا کہ یہ بھی اپنا گھر ہے، کہیں اور نکاح کرنے سے یہاں نکاح بہتر ہے، تو بس عدت کے دوران ہی میرا نکاح کرا دیا، بعد میں کسی نے بتا دیا کہ یہ نکاح نہیں ہوا ہے اور میں بھی ڈراؤں خواب دیکھتی رہتی ہو، سکون نہیں ملتا، دیور کے ساتھ نکاح کے اب تقریبا چھ ماہ ہونے والے ہیں، اب معلوم کرنا ہے کہ دوران عدت نکاح ہوتا ہے کہ نہیں؟ اگر ہمارا نکاح نہیں ہوا تھا تو اب ہمارے لیے نکاح درست کرنے کا کیا طریقۂ كار ہے ؟ اور اگر اب میں دیور کے ساتھ بھی نہ رہنا چاہوں تو کیا مجھے اس سے طلاق لینا لازم اور ضروری ہے؟ کیونکہ اب میں دیور کے ساتھ بھی نہیں رہنا چاہتی ، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائىں۔
(تنقيحات: 1. خاتون كو اپنے عدت كے مكمل نہ ہو نے كا علم تھا؟
2. نكاح كے وقت انہوں نے ہونے والے شوہر كو عدت مىں ہونا بتاىا تھا؟
3. گھر والوں كو عدت كے دوران نكاح كى حرمت كا علم تھا يا نہىں؟
جواب على التنقيحات: 1. مىں تو عدت كو جانتى بھى نہىں تھى كہ كيا ہے، نہ ہى مجھے اس با ت كا علم تھا
2. شوہر كو بھى اس بات كا علم نہىں تھا
3. سائلہ كے بقول جب ہمىں علم ہوا كہ عدت مىں نكاح نہىں ہوتا ، تو مىں نے شوہر كو بتايا تو انہوں نے)
سوال مىں ذكر كرده تفصيل اور اس كے ساتھ درج وضاحت كے مطابق اگر واقعةً سائلہ اور اس كے دیور كو دوران عدت نكاح كى حرمت كا علم نہ ہو، بلكہ بڑو ں كے كہنے پر انہوں نے ىہ نكاح جائز سمجھ كر كيا ہو تو شرعاً ىہ نكاح فاسد ہوا ہے، اس لىے ان دونوں كا اس نكاح كى بنياد پر ازدواجى جيثيت سے رہنا جائز نہىں ، بلكہ دونوں كىلىے اس رشتہ كو ختم كركے اىك دوسرے سے علىحدگى اختيار كرنا لازم ہے، تاہم اس صورت مىں چونكہ ہمبسترى بھى ہو چكى ہے، اس لىے سائلہ كے ديور كو چاہیے کہ الفاظ ِمتارکہ(یعنی شوہر عورت کو یہ کہہ دیں کہ میں نے تجھےچھوڑدیا یا میں نے تم سے علیحدگی اختیارکرلی) کے ساتھ اس سے علیحدگی اختیارکرے ۔لہذااس کے بعداگرسائلہ مذکوردیورہی سے دوبارہ نکاح کرناچاہتی ہو، تو اولاً سابقہ شوہر كى مابقيہ عدت مكمل كرے، اس كے بعد ديور سے نكاح كر سكتى ہے، لىكن اگر وه دیورکے علاوہ کسی اورسے نکاح کرناچاہتی ہوتواس صورت میں علیحدگی کے بعدنکاح فاسدکی عدت (مکمل تین ماہواریاں ) گزارنا لازم ہے،جس کے بعداس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرناجائزہوگا۔
كما في البدائع: وأما أحكام العدة فمنها أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة لقوله تعالى {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] (فصل في أحكام العدة، ج: 3، ص: 204، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: والظاهر أن المراد بالباطل ما وجوده كعدمه (إلى قوله) أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ. «والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة، أما فيها فالفرق ثابت. وعلى هذا فيقيد قول البحر هنا ونكاح المعتدة بما إذا لم يعلم بأنها معتدة» (مطلب في النكاح الفاسد، ج: 3، ص: 132، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، (إلى قوله) ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب.إلخ (كتاب النكاح، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص 280، ط: مكتبة ماجدية)
وفيها أيضا: العدتان تنقضيان بمدة واحدة عندنا كانتا من جنس واحد أو من جنسين صورة الأولى: المطلقة إذا حاضت حيضة، ثم تزوجت بزوج آخر ووطئها الثاني وفرق بينهما وحاضت حيضتين بعد التفريق كان لهذا الزوج الثاني أن يتزوجها لانقضاء عدة الأول وليس لغيره أن يتزوجها حتى تحيض ثلاث حيض من وقت التفريق لقيام عدة الثاني في حق الغير الغير، وإن كان طلاق الأول رجعيا كان للأول أن يراجعها قبل أن تحيض حيضتين بعد تفريق الثاني، وإن حاضت ثلاث حيض من وقت تفريق الثاني تنقضي العدتان جميعا.اهـ (الباب الثالث عشر في العدة، ج: 1، ص: 532، مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: . (وتجب العدة بعد الوطء) (إلى قوله) (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول.اهـ (كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في النكاح الفاسد، ج: 3، ص 133، ط: إيج إيم سعيد)