جناب مفتی صاحب: گزارش یہ ہے کہ میں.......زوجہ ....... آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ میرا نکاح مسمی....... کے ساتھ 2024/ June 27 کو سٹی کورٹ میں بغیر ولی کے میری بہن سے چھپکے ہوا تھا۔ کیونکہ میری صرف ایک بہن ہے اور میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے اور میرا کوئی بھائی بھی نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے ..... سے سٹی کورٹ میں نکاح کیا ۔ ابتدائی دو ماہ خوشحالی سے گزرے پھر(27،ستمبر ،2024)کو میرے شوہر نے مجھے ایک بار کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" بعد میں ..... کے والدین نے ہماری گھر میں ہی رجوع کروائی۔ پھر کچھ دنوں بعد اللہ کے حکم سے میں حاملہ ہو گئی ۔ تقریباً اس وقت میرا حمل آٹھ ماہ کا تھا۔ پھر ایک دن ہم آپس میں مذاق کر رہے تھے مذاق کرتے کرتے میرےشوہر غصہ میں آگئے اور مجھے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں پھر......کے والدین نے علماء کرام سے دوبارہ نکاح کرنے کے بارے میں معلومات کرنے بعد دوبارہ ..... کے والدین نے ہمارا نکاح مسجد میں کروایا ،اور یہ بات 5،مئی 2025 کی ہے ، جب مجھے نو ماہ کا حمل تھا۔ پھر اللہ نے مجھے ایک پیاری سی بیٹی عطا فرمائی جو اُس وقت چھ ماہ کی تھی اور چار ماہ کا حمل بھی تھا مجھے، پھر کچھ دن بعد میں نے اپنے شوہر سے اپنی بیٹی کے لئے ضرورت کی کوئی چیز منگوائی تھی۔ تو میرے شوہر اس بات پر غصہ میں آگئے اور مجھ سے لڑ پڑے اور لڑتے ہوئے غصے میں کمرے سے باہر نکل گئے ، اور مجھے میرے شوہر نے نہ طلاق دینے کی کوئی بات کہی اور نہ ہی چھوڑنے کا کہا لیکن میرے شوہر کے والدین کا کہنا ہے کہ حیدر نے کہا ہے کہ میں اسے چھوڑتا ہوں جبکہ میں نے اس سے کچھ بھی بولتے ہوئے نہیں سنا ،یہ بات (16,دسمبر،2025 ) کی ہیں۔،آپ سے التجا ہے کہ میں بن ماں باپ کی ایک یتیم لڑکی ہوں۔ میری ایک چھوٹی بہن ہے جو کہ شادی شدہ ہے، اور میرا کوئی بھائی بھی نہیں ہے آپ فی سبیل اللہ کوئی ایسا راستہ نکالیں کہ میرے حق میں زوجیت یا نکاح ختم نہ ہو۔ کیونکہ میرے اور میرے بچوں کا کوئی دوسرا سہارا نہیں ہے، میری بیٹی ابھی ماشاء الله ایک سال کی ہے اور میرا بیٹا بیس دن کا ہے ۔میرے بہت چھوٹے بچے ہیں ، میں چاہتی ہوں کہ میرا نکاح برقرار رہےیا دوبارہ ہو جائے۔ اس میں میری رہنمائی فرمائیں کیونکہ میرے شوہر کے علاوہ میرااور میرے بچوں کا دوسرا کوئی سہارا نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے ماں باپ کے سائے میں پلے،آپ کوشش کریں کہ میرا اور میرے بچوں کے حق میں کوئی اچھا فیصلہ کریں کیونکہ میں ایک یتیم لڑکی ہوں ،اور تاکہ میرے بچے یتیموں والی زندگی نہ گزارے ،ماں کی محبت اور باپ کی شفقت میں پلے،اور میں ابھی بہت پریشان ہوں ،میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے مسئلے پر نظر ثانی فرمائیں ،میں آپ کی شکر گزار رہوں گی،نوٹ: میاں بیوی دونوں دارالافتاء تشریف لائے تھے۔ پہلے دو طلاق اور آخری جملے کا شوہر مسمی ..... بھی إقرار کرتا ہے ۔ آخری جملے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ لڑائی اور غصہ کی حالت میں ،میں نے یہ جملہ بولا تھا ،کہ میں اس کو چھوڑ رہا ہوں اب جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
صورتِ مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر نے پہلے مختلف اوقات میں واضح الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کے ذریعہ دو طلاقیں دینے کے بعد دوران عدت جو رجوع کیا تھا تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار تھا،اور شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا ،پھر آخری جھگڑے کے دوران جب شوہر نے مذکور الفاظ "میں اسکو چھوڑ رہا ہوں " کے الفاظ کہہ دیے جس کا وہ خود بھی اقرار کرتا ہے،اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، اب دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ،جبکہ حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد ِنکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ِثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما فی الدرالمختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) «بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،اھ(كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج: 3،ص: 247،مط: دارالفکر)
و فی الھندیة: الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز،اھ(كتاب الطلاق،الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج: 1،ص: 354،مط: دار الفکر)
و فی ردالمحتار: (تحت قوله) فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي اھ،(باب الکنایات،ج: 3،ص: 299، مط: دارالفکر بیروت)