میرانکاح ہوا اور گھر والوں کی آپس کی غلط فہمیوں اور رنجشوں کی وجہ سے دونوں گھروں کی بات خراب ہوگئی، رخصتی سے پہلے مسماۃ..... کے گھر والے اسکو زبردستی لاہور لے گئے اور وہاں سے زبردستی خلع سائن کروا کے خلع کا نوٹس بھیج دیا، یہاں میرے گھر والے کوشش کرتے رہے کہ بات صحیح ہوجائے لیکن جب خلع کا نوٹس ملا ،اس کے بعد وہ بھی بدظن ہوگئے ،اور جب مسماۃ..... سے ہمیں اسکے گھر والوں نے بات نہیں کرنے دی تو میرے گھر والوں نے طلاق کے پیپرز بنوا لئے اور حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے طلاق دینے کا کہا ،میں نہیں چاہتا تھا طلاق دینا اور میں نے کوئی بات نہیں کی اس بارے میں ،روز کوشش ہوتی کہ کسی طرح رابطہ ہوجائے، لیکن نہیں ہوسکا ،اور ایک دن میرے والد صاحب نے مجھے پیپرز دیے سائن کرنے کے لئے، اس وقت میں کچھ سمجھ نہیں سکا ،میں نے پیپرز پڑھے بغیر سائن کیے اور چلا گیا ،مجھے طلاق نہیں دینی تھی، نا میری طلاق دینے کی خواہش تھی، میں اس سب کو صحیح کرنا چاہتا تھا، اس سب کے بعد میری مسماۃ..... سے بات ہوئی ،اس نے بتایا کہ وہ بھی نہیں چاہتی یہ سب اور میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے ،جس وقت میں نے سائن کیا، میں نے پیپرز نہیں پڑھے کیوں کہ میں چاہتا ہی نہیں تھا کہ یہ سب ہو، نہ ہی میری نیت تھی کہ میں طلاق دوں، بس حالات اور ماحول کے دباؤ میں آکے میں نے سائن کیا۔
واضح ہو کہ جس طرح زبان سے الفاظ طلاق ادا کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ یہ طلاق نامہ ہے، طلاق نامہ پر دستخط کردے،خواہ اس نے بغیرپڑھےمحض خاندانی دباؤمیں ہی اس طلاق نامہ پردستخط کیے ہوں ،تب بھی طلاق نامہ میں درج طلاق( خواہ ایک ہو یا تین)واقع ہوجاتی ہے،اورچونکہ سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی مذکورطلاق نامہ میں کتنی طلاقیں درج تھیں، اس لئے اس طلاق نامہ کودیکھے بغیرسائل کے لئے تجدیدنکاح کی شرعاً گنجائش ہونے یا نہ ہونےکا حتمی حکم شرعی بیان نہیں کیاجاسکتاہے ،لہذاسائل اگرمذکورطلاق نامہ کے عکس کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کردے تواس کوملاحظہ کرنے کے بعداس کے متعلق حکم شرعی سے آگاہ کردیاجائے گا۔
کما فی الشامیۃ: قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3،ص:246،)