طلاق

ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
97040
| تاریخ :
2026-07-02
معاملات / احکام طلاق / طلاق

ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاق کا حکم

میاں بیوی کی طرف سے ایک مسئلہ کے حل کیلئے تشریف فرما ہیں؛ دونوں کا نکاح ہواہے، تقریباً چھ (6) ماہ پہلے ، دو دن پہلے کسی تلخ کلامی کی وجہ سے اور گھر والوں کے دباؤ کے بعد شوہر نے بیوی کے کہنے پر طلاق دی جو کہ رائٹنگ اور زبانی دونوں تھی، اب دونوں فریقین کو اس بات کا پچھتاوا ہے، اور وہ اس معاملے سے رجوع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ،آپ سے اس معاملے میں رہنمائی درکار ہیں، مزید وضاحت: نکاح کے دوسرے دن ہمارے درمیان ہم بستری ہوئی تھی ، اس کے بعد شوہر سعودی چلے گئے تھے، ابھی اس دوران تحریری طور پر بھی تین طلاق دی ہے، اور زبانی طور پر بھی تین طلاقیں دی ہے، " پورا مکمل جملہ نام وغیرہ لے کر " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" بولا تھا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ، اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے، کیا اس صورت میں غیر مقلدین کے فتوٰی پر عمل کیا جاسکتا ہے، تین طلاق کے وقوع کے بارے میں تفصیلی فتوٰی تحریر فرمائیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرآن و سنت کی روشنی میں باجماعِ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین و باتفاقِ ائمہ اربعہ( امام اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک ،اور امام احمد بن حنبل ) رحمہم اللہ تین طلاقیں چاہے ایک مجلس میں اور ایک ہی جملہ کے ساتھ دی جائیں ،یا مختلف مجالس میں اور الگ الگ جملوں کے ساتھ دی جائیں، تو اس سے تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوجاتی ہے، قرآن ِکریم کی نصوصِ قطعیہ ، احادیثِ صحیحہ اور آثار صحابہ و تابعین اور فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریحات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا اگرچہ ناپسندیدہ ہے،مگر اس طرح یکمشت تین طلاقیں دینے سےتین ہی طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، ملاحظہ ہو!
(1):کما قال اللہ سبحانہ وتعالیٰ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ الآیۃ(سورۃ البقرۃ آیۃ 229)۔
اس آیتِ کریمہ سے علماء ِکرام نے ایک دفعہ میں تین طلاقیں دینے سے تینوں کے واقع ہونے پر استدلال کیا ہے، اور وہ اس طرح کہ اس آیت ِکریمہ کا مضمون یہ ہے کہ طلاق ِ رجعی دو دفعہ کی ہیں، اب اس میں دونوں احتمال ہیں کہ دو طلاق الگ الگ طہر میں دے یا ایک ساتھ دیدے، بہر صورت دونوں واقع ہوں گی، اور جب ایک وقت میں دونوں واقع ہوسکتی ہیں ،تو تین بھی واقع ہوں گی، اس لئے کہ دو اور تین میں فرق کرنے والی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب صحیح بخاری میں ( باب من أجاز الطلاق الثلاث )تین طلاقوں کے واقع ہونے پر اسی سے استدلال کیا ہے۔
قال ابوبكر الرازي تحت عنوان "ذكر الحجاج لايقاع الثلاث معاً قوله تعالى:الطلاق مَرَّتَانِ فَإِمْسَاك بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيح بِإِحْسَانٍ - الآية يدل على وقوع الثلاث معاً مع كونه منهيا عنه،وذلك لان قوله تعالى الطلاق مَرَّتَانِ قد ابان عن حكم اذا وقع اثنين بان يقول:انت طالق،انت طالق فى طهر واحد و قد بينا ان ذلك خلاف السنة،فاذا كان في مضمون الآية الحكم بجواز وقوع الاثنين على هذا الوجه دل ذلك على صحة وقوعهما لو اوقعهما معاً لان احداً لم يفرق بينهما۔اھ(رسالة حكم الطلاق الثلاث بلفظ واحد، فتوی علماء الحرمين الشریفين) (1/667)۔
وفي الصحيح للبخارى: باب من اجاز الطلاق الثلاث، لقول الله تعالى: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان}(7/42)۔
وفى عمدة القاري شرح الصحيح للبخارى: وجه الاستدلال به ان قوله تعالى "الطلاق مرتان" معناه مرة بعد مرة، فاذا جاز الجمع بين اثنين جاز بين الثلاث۔(20/234) ۔
وقال الله تعالى: فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔ الآیۃ (البقرة: 230) ۔

ترجمہ: "پھر اگر دو طلاقوں کے بعد کوئی [تیسری]طلاق [بھی ] دیدے ،تو پھر وہ عورت اس [تیسری طلاق دینے کے بعد] اس شخص کیلئے حلال نہ ہو گی، جب تک وہ اس کے سوا دوسرے شخص کے ساتھ [ عدت کے بعد ] نکاح نہ کرلے۔
(2):وفي الصحيح للبخارى: عن عائشة رضى الله عنها أن رجلاً طلق امرأته ثلاثاً فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول: قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. (كتاب الطلاق، باب من أجاز الطلاق الثلاث، (رقم:5261)۔
ترجمہ: "حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، دوسرے شخص نے بھی اس کو طلاق دیدی، تو حضورﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یہ عورت پہلے شخص کے لئے حلال ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، جب تک پہلے شوہر کی طرح دوسرا شوہر بھی اس کا ذائقہ نہ چکھ لے"[یعنی صحبت نہ کرلے ]۔
اس حدیث میں " طلق امرأتہ ثلاثاً " کا جملہ تین طلاقیں اکٹھی اور ایک مجلس میں دینے کی صورت کو بھی شامل ہے ،اور اس حدیث سے بظاہر یہی صورت مراد ہونا معلوم ہوتا ہے، جس میں آپ ﷺ نے تینوں طلاقوں کے واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر اور علامہ بدرالدین عینی رحمہما اللہ نے بھی اس حدیث کا یہی مطلب بیان کیا ہے،اور امامِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی "صحیح بخاری" میں ، نیز امام بیہقی نے "السنن الکبری ٰ"میں ایک مجلس کی تین طلاق کے وقوع پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے، امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے،" باب من أجاز طلاق الثلاث" اور امام بیہقی نے یہ باب قائم کیا ہے: "باب ما جاء فی امضاء الطلاق الثلاث و ان كن مجموعات"۔
(3):وفى السنن الکبرٰی للبیہقی: عن عائشة رضى الله عنها أنها سألت عن الرجل يتزوج المرأة فيطلقها ثلاثاً فقالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تحل للأول حتى يذوق الآخر عسيلتها و تذوق عسيلته۔الحدیث (كتاب الرجعة،باب نكاح المطلقة ثلاثاً، رقم: 15193)۔
ترجمہ: "حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے، اس کے بعد اُس کو تین طلاق دے دیتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت اس شخص کے لئے حلال نہیں ہے ، جب تک کہ دوسرا خاوند اُس کا ذائقہ نہ چکھ لے[صحبت نہ کرلے]جس طرح کہ پہلا خاوند اُس کا ذائقہ چکھ چکا ہے" [صحبت کر چکا ہے]۔
اس حدیث میں بھی "ثلاثاً" کا لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے کہ اگر کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دیدے ، تو تینوں طلاقیں واقع ہو کر بیوی مغلّظہ بائنہ ہوجاتی ہے، یہی روایت دار قطنی میں اس طرح آئی ہے،
قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: اذا طلق الرجل امرأته ثلاثاً لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره و يذوق كل واحد منهما عسيلة صاحبه۔ الحدیث (سنن الدار قطنی، کتاب الطلاق، رقم: 3977)۔
یعنی: "رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے، تو وہ اُس کے لئے حلال نہیں ہو گی ، جب تک کہ دوسرے مرد سے نکاح کرکے دونوں ایک دوسرے کا ذائقہ نہ چکھ لیں"۔
(4):امام بخاری نے صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے لعان کا واقعہ نقل کیا ہے، اس واقعے میں ہے: "كذبت عليها يا رسول الله ان أمسكتها،فطلقها ثلاثاً قبل أن يأمره رسول الله صلى اللہ علیہ و سلم "
یعنی: لعان کے بعد حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے گھر میں رکھوں ، تو گویا میں نے اُس پر جھوٹا بہتان باندھا، یہ کہہ کر انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں،
علامہ کوثری ؒ فرماتے ہیں: کسی بھی روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ان پرنکیر فرمائی ہو۔
اس سے صاف معلوم ہوا کہ وہ تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں، اور لوگوں نے بھی اس سے تین طلاق کا وقوع سمجھا، اگر لوگوں کا سمجھنا غلط ہوتا، تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اُن کی اصلاح فرماتے اور لوگوں کو غلط فہمی میں نہ رہنے دیتے ، پوری امت نے اس روایت سے یہی سمجھا ہے ، حتی کہ علامہ ابن حزمؒ نے بھی یہی مطلب سمجھا ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا:
انما طلقها و هو يقدر أنها امرأته و لولا وقوع الثلاث مجموعة لأنكر ذلك عليه فقہی مقالات: ۳/ ۱۹۱، بحواله الاشفاق علی أحکام الطلاق، (ص:29)۔
یعنی: "اگر ایک مجلس میں تین طلاق کا شرعاً اعتبار نہ ہوتا اور تین طلاقیں ایک طلاق تصور کی جاتی ، تو اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم ضرور حکم ارشاد فرماتے اور کسی طرح خاموشی اختیار نہیں فرماتے،" جب آپ ﷺ نے اس پر سکوت اختیار کیا ، تو یہ اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ گویا آپ نے تین طلاق کو نافذ قرار دیا، اس کی تائید ابو داؤد میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے،
جس کے الفاظ یہ ہیں: عن سهل بن سعد قال : فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه و سلم . فانفذه رسول اللہ ﷺ۔الحدیث (سنن أبي داود باب في اللعان۔الحدیث (رقم2250)۔
یعنی: "حضرت عویمر ؓ نے آپ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور آپ نے ان کو نافذ کردیا"۔
(5):وفى الصحيح للبخارى: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»اھ(7/43)۔
ترجمہ : حضرت لیث نافع سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابن عمر ؓسے پوچھا جاتا ایسے شخص کے بارے میں جس نے تین طلاقیں دے دی ہوں تو فرماتے اگر تو ایک یا دو بار طلاق دیتا تو تجھے رجوع کا حق حاصل ہوتا کہ بے شک نبی ﷺ نے مجھے اس سے رجوع کا حکم فرمایا، پس اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے دیں تو وہ تجھ پر حرام ہوگئی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔
(6):وفى سنن النسائى: عن محمود بن لبيد قال :أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعاً،فقام غضباناً ثم قال:أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم حتى قام رجل و قال: يا رسول الله ألا أقتله۔الحدیث (كتاب الطلاق الثلاث المجموعة و ما فيه من التغليظ، رقم:3401)۔
ترجمہ: حضرت محمود بن لبید ؓفرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقیں دے دیں، آپﷺ اس پر غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میری موجودگی میں اللہ تعالی کی کتاب سے کھیلا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا کہ حضرت ! کیا اس شخص کو قتل کردوں ؟اس حدیث کو حافظ ابن القیم، علامہ ماردینی، حافظ ابنِ کثیر اور حافظ ابنِ حجر نے سند کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے ۔
(عمدة الاثاث ص:27، بحواله زاد المعاد لابن القيم :4/52، الجوهر النقى للماردینی: 7/323 نیل الاوطار:6/241، بلوغ المرام لابن حجر العسقلاني ص:224)۔
اس حدیث میں آپﷺ کا تین طلاق دینے پر ناراض ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق واقع ہوتی ہیں ،ورنہ آپ اس قدر ناراضگی کا اظہار نہیں فرماتے ،اور امام نسائی ؒنے اس حدیث پر جو باب قائم کیاہے: " الثلاث المجموعة و ما فيه من التغليظ"اس سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ بھی اس حدیث سے یہی ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
(7):وفی السنن الکبری: عن سويد بن غفلة قال: كانت عائشة الخثعمية عند الحسن بن علي رضي الله عنه، فلما قتل علي رضي الله عنه قالت: لتهنئك الخلافة، قال: بقتل علي تظهرين الشماتة اذهبي فأنت طالق، يعني ثلاثا قال: فتلفعت بثيابها وقعدت حتى قضت عدتها فبعث إليها ببقية بقيت لها من صداقها وعشرة آلاف صدقة، فلما جاءها الرسول قالت: متاع قليل من حبيب مفارق، فلما بلغه قولها بكى ثم قال: لولا أني سمعت جدي أو حدثني أبي أنه سمع جدي يقول: " أيما رجل طلق امرأته ثلاثا عند الأقراء أو ثلاثا مبهمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره "لراجعتها"اھ(7/549)۔
ترجمہ: "حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حضرت حسن بن علیؓ کے نکاح میں تھیں، جب حضرت علی شہید کر دئے گئے تو ان کی بیوی نے کہا کہ آپ کو خلافت مبارک ہو ،حضرت حسن نے فرمایا اچھا تم حضرت علی کی شہادت پر خوشی کا اظہار کر رہی ہو، جاؤ تمہیں تین طلاق ، راوی کہتے ہیں: انہوں نے پردہ کرلیا اور عدت میں بیٹھ گئیں،جب عدت پوری ہوگئی تو حضرت حسن نے بقیہ مہر ان کے پاس بھیج دیا اور اس کے علاوہ مزید دس ہزار درہم بھی بھیجے ، جب قاصد یہ رقم لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے متاع قلیل ملا ہے ، جب اس خاتون کا یہ قول حضرت حسن کے پاس پہنچا تو آپ رو پڑے اور فرمایا اگر میں نے اپنے نانا جان سے یہ بات نہ سنی ہوتی، یا یہ فرمایا کہ میرے والد مجھ سے یہ بیان نہ کرتے کہ انہوں نے میرے نانا جان سے یہ سنا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طہر میں تین طلاق دے دے یا تین مبہم طلاقیں دیدے تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہیں رہتی ،حتی کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح کرلے تو میں اپنی بیوی کو نکاح میں لے لیتا۔
(8):وفى شرح النووى على الصحيح لمسلم: فاختلف العلماء في جوابه و تأويله فالأصح أن معناه أنه كان في أول الأمر إذا قال لها أنت طالق أنت طالق أنت طالق و لم ينو تأكيدا و لا استئنافا يحكم بوقوع طلقة لقلة إرادتهم الاستئناف بذلك فحمل على الغالب الذي هو إرادة التأكيد فلما كان في زمن عمر رضي الله عنه و كثر استعمال الناس بهذه الصيغة و غلب منهم إرادة الاستئناف بها حملت عند الإطلاق على الثلاث عملاً بالغالب السابق إلى الفهم منها في ذلك العصر و قيل المراد أن المعتاد في الزمن الأول كان طلقة واحدة و صار الناس في زمن عمر يوقعون الثلاث دفعة فنفذه عمر فعلى هذا يكون إخبارا عن اختلاف عادة الناس لا عن تغير حكم في مسألة واحدة۔اھ (1/478) ۔
جہاں تک لوگوں میں مشہور بات کا تعلق ہے کہ شروع زمانہ میں ایک نشست میں دی گئی تین طلاق ایک ہی مانی جاتی تھیں ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں عموماً لوگوں میں یہ عادت تھی کہ جب ایک طلاق دینی ہوتی تو تاکیداً اس کو دوبارہ مزید دہرا دیا کرتے تھے ، اور صدق و صفا غالب ہونے کی وجہ سے ان کی نیت کو معتبر مان کر دیانت کی بنیاد پر ایک طلاق تسلیم کرلی جاتی تھی،مگر جب فتوحات زیادہ ہونے لگیں، اور عجمی لوگ اسلام میں داخل ہوگئے اور دیانت کا وہ معیار نہیں رہا ،اور اس قسم کے واقعات بھی زیادہ ہونے لگے ، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ مشکل ہونے لگا کہ اس کا مقصد تاکید ہے یا نئے سرے سے دوسری اور تیسری طلاق کا قصد ہے ؟ شریعت ِمطہرہ کے احکام چونکہ ظاہر پر لاگو ہوتے ہیں ،اور باطنی ارادوں اور نیتوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے ، تو حضرت عمرؓ نے شریعت کے اس حکم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ جاری فرمایا کہ آدمی اپنی زبان سے جتنی بار طلاق دے گا ،اسی کے مطابق حکم جاری کیا جائے گا،چنانچہ خود نبی کریم ﷺ نے جس طرح مختلف واقعات میں ظاہری الفاظ پر تین طلاق کا حکم جاری فرمایا،
(جیسا کہ اوپر درج روایات سے واضح ہے ) اس سے حضرت عمر ؓ کے فیصلہ کی تائید ہوتی ہے اور اس پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے۔
یہ جو حقیقت حضرت عمر ؓ کے فیصلہ کی لکھی گئی ہے، آج بھی اس دیانت اور ظاہری الفاظ پر حکم لگانے کی تفصیل کے ساتھ ہمارے چاروں مذاہبِ فقہ کی کتابوں میں موجود ہے، مگر اس حقیقت کو جانے بغیر ایک خلیفہ راشد کے فیصلہ اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلوں کو متضاد سمجھنے اور غصہ میں بغیر سوچے سمجھے یا اپنے قصد و اردہ سے تین طلاقیں دیکر بعد میں کسی مخصوص جماعت کے فتویٰ وغیرہ کو بنیاد بنا کر اس کو دیانت والی صورت کے تحت لانا یا مسلم شریف کی مذکور روایت( جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خبر پر مشتمل ہے) کی حقیقت جانے بغیر تین طلاقوں کو ایک قرار دیکر باہم میاں بیوی کی طرح رہنا قطعاً غلط اور ناجائز ہے ، جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے خود اپنے فتاوی بھی کثیر تعداد میں اس پر موجود ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں، اگر وہ اس کا وہی مطلب سمجھتے جو آج سمجھا جا رہا ہے، تو کبھی بھی اس کے خلاف فتویٰ نہ دیتے، بلکہ وہ بھی ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کرتے۔
(9) :وفى مصنف ابن ابي شيبة: عن هاورن عن أبيه، قال: كنت جالسا عند ابن عباس فأتاه رجل، فقال: يا ابن عباس، إنه طلق امرأته مائة مرة، وإنما قلتها مرة واحدة، فتبين مني بثلاث، أم هي واحدة؟ فقال: «بانت بثلاث، وعليك وزر سبعة وتسعين»۔اھ (4/62)۔
ترجمہ : "ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنھما کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابن عباس !میں نے اپنی عورت کو سو [100]طلاقیں ایک ہی دفعہ میں دے دی ہیں ،کیا وہ مجھ سے تین طلاقوں سے الگ ہو جائے گی یاوہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی؟ آپ نے فرمایا کہ تین طلاقوں سے عورت جدا ہو گئی اور ستانوے کا بار تجھ پر ہے"۔
(10):و اخرج ابوداؤد بسند صحیح من طريق مجاهد قال كنت عند ابن عباس فجاءه رجل فقال انه طلق امرأته ثلاثا فسكت حتى ظننت سيردها اليه فقال ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يابن عباس يابن عباس ان الله تعالى قال و من يتق الله يجعل له مخرجا و انك لم تتق الله فلم اجدك مخرجا عصيت ربك و بأنت منك امرأتك۔الحدیث (2/260)۔
ترجمہ: حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ، آپ سن کر خاموش ہو گئے ،یہاں تک میں نے گمان کیا کہ آپ اس کو رجوع کا فتویٰ دیں گے،لیکن آپ نے فرمایا، تم میں سے ایک آدمی حماقت پر سوار ہوکر چل پڑتا ہے [اور اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد ] چلا آتا ہے، اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالا نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کیلئے نکلنے کی راہ پیدا فرمائیں گے اور تو چونکہ [ طلاق کے معاملہ میں]اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرا، اس لئے میں تیرے لئے نکلنے کی راہ نہیں پاتا تو اپنے رب کا نافرمان ٹھہرا اور تیری بیوی بھی تجھ سے جدا ہو گئی۔
لہٰذا مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں تین طلاقیں دیدیں، تو اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی جائز نہیں،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی،، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے اور وہ شخص اس سے کم از کم ایک مرتبہ حقوقِ زوجیت اداکرے،اب اگر دوسراشخص اسے ایک مرتبہ کی ہم بستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے،مگر اس کا پہلے انتقال ہوجائے،تو بہر صورت اس کی عدت گزرنےکے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے،یہ مکروہِ تحریمی ہےاوراس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے، البتہ بلاشرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97040کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات