مجھے ایک سوال کا جواب چاہیے۔
میرے شوہر نے مجھے ڈیوورس پیپرز سنیپ چیٹ کے ذریعے بھیجے، اور بعد میں وہی ڈیوورس پیپرز گھر لا کر... دستخط والی جگہ پر قلم رکھ کر مجھ سے کہا کہ میں دستخط کر دوں، لیکن اُس نے دستخط نہیں کیے، لیکن میں نے وہ پیپرز پڑھ لیے ہیں اور ان پیپرز میں واضح طور پر تین طلاقیں لکھی ہوئی ہے، اور باقی معاملاتِ زندگی کے متعلق بھی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ لیکن اب ان ڈیوورس پیپرز پر کسی کے دستخط موجود نہیں، نہ شوہر کے، نہ گواہوں کے، تو کیا طلاق ہو گئی ہے؟
بعد میں شوہر مجھ سے ان پیپرز کی ڈیمانڈ بھی کر چکا ہے سنیپ چیٹ پر کہ مجھے وہ پیپرز سائن کر کے دو، مجھے جمع کروانے ہیں، اور اس نے مجھے میسجز پر یہ الفاظ بھی بولے ہیں: "کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے، آج سے تمہارا میری زندگی میں کوئی واسطہ نہیں، اور نہ ہی میری لائف میں انٹرفیئر کرنے کی کوشش کرنا، تم جیسی لڑکی کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں"۔ تو کیا یہ الفاظ ان پیپرز کو مدِنظر رکھتے ہوئے طلاق کے طور پر ہی شمار ہوں گے؟
واضح ہو کہ سائلہ کے شوہر کی جانب سے اسنیپ چیٹ پر بھیجے گئے طلاق نامہ پر اگرواضح طور پر صریح الفاظ مثلاً"میں تمہیں طلاق دیتاہوں" وغیرہ تین بار درج ہو ں ،اگر چہ سائلہ کے شوہر نے اس طلاق نامہ پر دستخط نہ بھی کئے ہوں تب بھی سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الشامیۃ: قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3، ص:246، ط: سعید)
و فیہ ایضاً: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا (کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3، ص:247، ط: سعید)