محترم مفتی صاحب!
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک نہایت اہم اور حساس گھریلو معاملے میں شرعی رہنمائی اور فتوے کے لیے میں اپنا تفصیلی بیان نیچے درج کر رہی ہوں ،براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
بیان:
میرے شوہر نے مجھے میری بہن سے ملنے سے منع کیا تھا اور انہوں نے ایک ہی وقت مجلس میں یہ الفاظ تین بار دہرائے کہ" اگر تم اپنی بہن اینی سے ملی تو تم میری طرف سے فارغ ہو، اگر تم اینی سے ملی تو تم میری طرف سے فارغ ہو،
اگر تم اینی سے ملی تو تم میری طرف سے فارغ ہو"
اس کے بعد میں اپنی بہن (اینی) سے ملی ہوں اور جب سے یہ واقعہ ہوا ہے، میں اپنے مائیکے (ماں کے گھر) میں مقیم ہوں۔
براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:
1- شوہر کے منع کرنے کے باوجود جب میں اپنی بہن سے ملی، تو کیا اس سے شرعی طور پر طلاق واقع ہو گئی ہے؟
2- ایک ہی وقت میں اس طرح جملہ تین بار دہرانے اور پھر شرط پوری ہونے (بہن سے ملنے) کے بعد اب شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ ایک طلاق شمار ہوگی یا تین؟
3- کیا اس صورتحال کے بعد ہم دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں، اور اس کا شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟
براہِ کرم اس کا تفصیلی شرعی حکم عنایت فرمائیں، تاکہ ہم گناہ اور حرام سے بچ سکیں۔ میں آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔
میں پریگننٹ بھی ہوں اور اس واقعے کو 1 ماہ ہو گیا ہے اور میری پریگنینسی کو 3 ماہ ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیاگیا ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے غصے یا طلاق کے متعلق بات چیت میں سائلہ کو یہ جملہ" اگر تم اپنی بہن اینی سے ملنے گئی تو تم میری طرف سے فارغ ہو" تین بار کہا ہو تو اس سے سائلہ پر صرف ایک طلاق بائن معلق ہوگئی تھی،چنانچہ ان الفاظ کے بعد اگر سائلہ اپنی بہن"اینی" سے مل چکی ہو تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا،البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرکے ساتھ رہ سکتےہیں، تا ہم اس کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہےگا، بشرطیکہ اس سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے ۔
کما فی الدر: فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام(الیٰ قولہ) (ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط)الخ(کتاب الطلاق، باب الکنایات،ج:3،ص:301،ط:سعید)
وفیہ ایضاً: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح، (الی قولہ) (لا) يلحق البائن (البائن)(کتاب الطلاق، باب الکنایات،ج:3،ص:308،ط:سعید)