السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛مفتی صاحب! میرا شوہر اکثر غصے میں مشروط طلاق کے الفاظ کہتا تھا، مثلاً: "اگر تم نے فلاں کام کیا تو تم مجھ سے فارغ"۔ اگرچہ میں وہ کام نہیں کرتی تھی، لیکن بعد میں وہ کہہ دیتا تھا کہ میں اپنی بات واپس لیتا ہوں،حال ہی میں ہمارے درمیان شدید جھگڑا ہوا، میرے شوہر نے میری بھابھی کے سامنے کہا: "اگر یہ اپنی والدہ کے گھر گئی تو میری طرف سے طلاق، طلاق" اور بھابھی کو گواہ بھی بنایا، میں اپنی والدہ کے گھر چلی گئی، بعد میں میرے شوہر نے کہا کہ اس نے دو طلاقیں دی تھیں، اور دو دن بعد اس نے مجھے میسج پر کہا: "میری طرف سے تمہیں تیسری طلاق،براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ:1۔ کیا مجھ پر طلاق واقع ہو چکی ہے؟2۔ اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟3۔ کیا دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش باقی ہے؟میرے دو چھوٹے بچے ہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیں۔والسلام ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے اپنی بھابھی کی موجودگی میں یہ الفاظ کہےہوں کہ"اگر یہ اپنی والدہ کے گھر گئی تو میری طرف سے طلاق، طلاق"تو ان الفاظ سے سائلہ پردوطلاقیں معلق ہوگئی تھیں ،بعد ازاں جب سائلہ اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، تو والدہ کے گھر جانے سے معلق کی گئی دو طلاقیں واقع ہوگئیں، اس کے بعد جب شوہر نے دو دن بعد تحریری پیغام کے ذریعے یہ لکھا"میری طرف سے تمہیں تیسری طلاق"، تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکر سائلہ پرتین طلاقوں کےذریعہ حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ سائلہ ایام عدت گزرانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر دوسراشخص اس سے ایک مرتبہ ہم بستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے،لیکن اس کا پہلے انتقال ہوجائے،تو بہر صورت اس کی عدت گزرنےکے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے،یہ مکروہِ تحریمی ہےاوراس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہٰذا اس طرح نکاح سے احتراز لازم ہے، البتہ بلاشرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الشامیۃ: لو حلف لا يحلف بيمين حنث بتعليق الجزاء بما يصلح شرطا، سواء كان الشرط فعل نفسه أم فعل غيره أم مجيء الوقت، كأنت طالق إن دخلت أو إن قدم زيد أو إذا جاء غد وكذا إذا جاء رأس الشهر، أو إذا أهل الهلال والمرأة من ذوات الحيض دون الأشهر لوجود ركن اليمين وهو تعليق الجزاء، ووجود اليمين شرط الحنث فيحنث، إلا أن يعلق بعمل من أعمال القلب كإن شئت أو أردت أو أحببت أو هويت أو رضيت، أو، بمجيء الشهر كإذا جاء رأس الشهر والمرأة من ذوات الأشهر فلا يحنث(باب التعلیق،ج:3،ص:341،ط:سعید)۔
وفیھا ایضاً: وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا اھ (مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ج:3، ص:246، م:سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا(الباب الرابع فی الطلاق بالشرط الخ،ج:1،ص:420،م: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،ط:سعید)۔