اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ 'میں نے تجھے تین طلاقیں دی ہیں، اگر کہتی ہو تو لکھ کر دیتا ہوں'، تو ایسی صورت میں مسئلے کا حکم کیا ہوگا؟ کیا رجوع کی کوئی گنجائش باقی رہے گی؟ اور کیا چار مہینے دس دن کی عدت گزارنے کے بعد، ایسی عورت کے ساتھ حلالہ جائز ہوگا یا نہیں ؟ حلالہ کے متعلق بھی تفصیل سے بتا دیں کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں ایک ساتھ دی جائیں، یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں ، اس سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اگر نکاح اور خلوتِ صحیحہ کے بعد بیوی کو مذکور الفاظ کہے ہوں " میں نے تجھے تین طلاقیں دی ہیں"تو اس سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے ، اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دونوں کا باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فورا بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ۔(البقرۃ ،آیت : 229،230)
و فی صحیح البخاري: وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔اھ (، کتاب الطلاق ج:2,ص:292ط: بشریٰ)
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج ۔اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج:1 ،ص:355 ط:ماجدیہ)۔
وفي الشامية: وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وعن الإمامية: لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة وعن ابن عباس يقع به واحدة، وبه قال ابن إسحاق وطاوس وعكرمة لما في مسلم أن ابن عباس قال: «كان الطلاق على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم. فأمضاه عليهم، وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.قال في الفتح بعد سوق الأحاديث الدالة عليه وهذا يعارض ما تقدم، وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم مع عدم مخالفة الصحابة له وعلمه بأنها كانت واحدة فلا يمكن إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر اھ (باب رکن الطلاق،ج: 3، ص: 229ط:سعید)