کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرج ذیل مسئلہ میں کہ آج سے تقریباً بارہ، تیرہ سال قبل میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں کہ ”تم مجھ پر طلاق ہو“۔ لیکن اس کے بعد بڑوں کے کہنے پر بات پر پردہ ڈالنے کا کہا گیا اور ہم ساتھ رہتے رہے، بچے بھی ہوئے، لیکن بعد میں ہم نے جدائی اختیار کر لی اور اب تقریباً سات سال سے جدا ہیں۔ اب ہم دوبارہ گھر آباد کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟ کیونکہ میری بیوی نے اب تک دوسری شادی نہیں کی ہے۔ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں بارہ تیرہ سال قبل سائل نے جب اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، تو اس وقت بیوی اس پر حرام ہو گئی تھی اور اسی وقت اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا لازم تھا۔ اس کے باوجود محض بڑوں کے کہنے پر مطلقہ بیوی کے ساتھ ازدواجی حیثیت سے رہنے سے دونوں میاں بیوی اور ان کے بڑے سخت گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، جس پر دونوں میاں بیوی اور ان کے بڑوں پر لازم ہے کہ بصدقِ دل توبہ اور استغفار کریں۔اس سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤاخذ هٔ اخروی سے سبکدوش فرمائے۔ پھر چونکہ تین طلاقوں سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اس لیے اب حلالۂ شرعیہ کے بغیر سائل اور اس کی مطلقہ بیوی کا دوبارہ باہم نکاح نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ بغیر حلالہ شرعیہ کے اپنی مذکورہ مطلقہ بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے احتراز کرے۔
جبکہ حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت ِطلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ،مکروہِ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے حلالۂ بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی رد المختار تحت: (قوله: وإذا وطئت المعتدة) أي من طلاق، أو غيره هو منتقى،...وكذا بدونه إذا قال ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا۔اھ(مطلب في وطء المعتدة بشبهة،ج:3،ص:518،ط:سعید)
و فیہ ایضاً: وفي شرح الأشباه للبيري عن الجوهر: رجل شرب الخمر وزنى ثم تاب ولم يحد في الدنيا هل يحد له في الآخرة؟ قال: الحدود حقوق الله تعالى إلا أنه تعلق بها حق الناس وهو الانزجار، فإذا تاب توبة نصوحا أرجو أن لا يحد في الآخرة فإنه لا يكون أكثر من الكفر والردة وإنه يزول بالإسلام والتوبة۔اھ(کتاب الحدود،ج:4،ص:4،ط:سعید)
و فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق اھ۔( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ،ج :۱،ص :۳۵۵ ،ط: ماجدیہ)
و في البدائع: (ولنا) الكتاب والسنة والمعقول أما الكتاب فقوله تعالى: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229] إلى قوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] والنص ورد في الحرة أخبر الله تعالى أن حل الحرة يزول بالثلاث من غير فصل۔اھ(فصل فی بیان قدر الطلاق وعددہ،ج:3،ص:97،ط:سعید)