میں پچھلے چھ ماہ سے اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ رہی ، ان کے پاس رکھنے کیلئے گھر نہیں اور نہ کوئی کاروبار ہے، نوکری وہ کرتے نہیں ،میں انکو سونا اور پیسہ آلریڈی بہت دے چکی ہوں لگ بھگ بیس لاکھ کا،اب میرے پاس کچھ نہیں کہ میں گھر یا کسی طرح کی مدد کروں،وہ اپنے بہن کے گھر پر رہائش کرتے ہیں،میں ان سے ملنے وہاں جاتی رہی ہوں آٹھ بار،چونکہ انکا جوان بیٹا بھی ہے،اور مجھ سے وعدہ تھا میرے شوہر کا کہ وہ مجھے وہاں نہیں بلائینگے اور کچھ کوشش کرینگے گھر کیلئے، خیر سب جھوٹی تسلیاں تھی ،30 مئی کو میرے شوہر سے لڑائی ہوئی،جس میں انہوں نے کہا "تم آزاد ہو جو چاہو کرو میں تمہیں کچھ نہیں بولونگا" اس کے دو گھنٹے بعد کال پہ کہا "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" میرے پاس مسیجز کا ثبوت ہے،اور مجھے دو حیض آچکے ہیں، ہماری کوئی ملاقات نہیں ہوئی ، جبکہ فون پہ بہت دفعہ لڑائی ہوئی،اور ویڈیو کال پہ بھی انہوں نے رجوع کا لفظ استعمال نہیں کیا ، اب اگر تیسرے حیض تک انہوں نے رجوع نہیں کیا،اور گھر نہیں لیا تو کیا طلاق واقع ہوجائیگی ،شرعی حکم کیا ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ "تم آزاد ہو جو بھی آپ چاہو میں کچھ نہیں بولونگا" مذاکرہ طلاق کے بغیر کہے ہوں تو اس جملہ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ ، اس کے دو گھنٹے بعد اگر واقعۃً سائلہ کو اس کے شوہر نے یہ الفاظ بولےہوں "میں تمہیں طلاق دیتاہوں"تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، جس کے بعد سائلہ کے شوہر کو دوران عدت رجوع کاحق حاصل ہے،چنانچہ اگر اس نے تین حیض مکمل ہونے سے پہلے قولاً یا عملاً رجوع کرلیا تو رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح برقرار رہےگا،لیکن اگر سائلہ کا شوہرعدت( تین حیض) کے اندر رجوع نہیں کرتا تو عدت گزرنے پرمذکور طلاق رجعی طلاق بائن میں تبدیل ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا ،اور سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، البتہ اگر سائلہ اور اس کا شوہر باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوجائیں ، تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں ، بہر دو صورت سائلہ کے شوہر کے پاس آئندہ کیلئے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر: «(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح (الیٰ قولہ) (واحدة رجعية،وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا)(ص:250)
و فی الھدایۃ: «وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض "»(کتاب الطلاق، باب الرجعۃ،ج:2،ص:254،ط:دار احیاء التراث العربی)
وفیہ ایضاً: والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.
قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة (کتاب الطلاق ،باب الرجعۃ،ج:2، ص: 254، ط: دار احیاء التراث العربی)
و فی البدائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا،(کتاب الطلاق، باب حکم الطلاق، ج:3، ص:180، ط: دارالکتب العلمیہ)