بسم اللہ الرحمن الرحیم؛موضوع: تین طلاق کے بعد رجوع کے متعلق شرعی رہنمائی و فتویٰ کی درخواست، محترم مفتی صاحب / دارالافتاء۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛مؤدبانہ گزارش ہے کہ میں نے غصے کی حالت میں اپنی دوسری بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، اس وقت میری اہلیہ تقریباً تین ماہ کی حاملہ تھیں، گھریلو حالات اور مسلسل اختلافات کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا،اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچے کی پیدائش ہوچکی ہے، ہم دونوں اپنی غلطی پر نادم ہیں اور دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں،براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی اور فتویٰ مرحمت فرمائیں:
1. کیا مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟
2. اگر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں تو کیا ہمارے درمیان رجوع یا دوبارہ نکاح کی کوئی شرعی صورت موجود ہے؟
3. اس معاملے میں شریعت کی رو سے ہمیں آئندہ کیا کرنا چاہیے؟
جزاکم اللہ خیراً۔و السلام
واضح ہو کہ حالتِ حمل میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ جب سائل نے اپنی دوسری بیوی کو تین طلاقیں صریح الفاظ میں دیدیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، بچے کی ولادت کی وجہ سے چونکہ عورت کی عدت بھی پوری ہوچکی ہے، لہٰذا فی الفور وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، تاہم اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کیلئے حلالہ شرعیہ ضروری ہے، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے اور وہ شخص اس سے کم از کم ایک مرتبہ حقوقِ زوجیت ادا کرے،چنانچہ اگر دوسرا شخص اسے ایک مرتبہ کی ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے،البتہ اس کا پہلے انتقال ہوجائے،تو بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے،یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے، البتہ بلاشرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی قولہ تعالٰی: فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجا غیرہ (البقرۃ:230)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،م:سعید)۔
وفیھا ایضاً: وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة، والأصل فيه قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] أي: انقضاء أجلهن أن يضعن حملهن، وإذا كان انقضاء أجلهن بوضع حملهن كان أجلهن؛ لأن أجلهن مدة حملهن اھ (فصل في عدة الحبل، ج:3، ص:192، م:سعید)۔