کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے سات سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو ویسے ہی مذاق میں اور گپ شپ میں کہا کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو" میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، پھر لوگوں کے کہنے پر ہم نے تجدید نکاح کیا ، اس کے بعد آج سے چار ماہ قبل آپس کے معاملات کی کشیدگی کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو طلاق اوّل کا نوٹس بھجوایا ، نوٹس کے ڈیڑھ ماہ بعد میری بیوی میرے پاس آئی، چونکہ وہ حالت حیض میں تھی، اس لیے ہم نے جماع تو نہیں کیا ، مگر بوس و کنار وغیرہ کیا ، تو ایسی صورت میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری بیوی میرے لیے حلال ہے ؟ یا دوبارہ تجدید نکاح کرنا ہوگا؟ براہ کرم شرعی اعتبار سے میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ " تم میری طرف سے فارغ ہو " کا جملہ عرف عام میں عند القرینہ طلاقِ صریح بائن کے لیے استعمال ہوتاہےجس سے بلا نیت بھی طلاق بائن واقع ہوکرنکاح ختم ہوجاتا ہے،لہذا سائل نے اگرسات سال قبل اپنی بیوی کے لیے مذکورلفظ استعمال کرنے کے بعدتجدیدنکاح کرلیاہو،توایسی صورت میں ان کے لیے دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہناجائزتھا،لیکن سائل کے پاس آئندہ کےلیے فقط دوطلاق کااختیارباقی رہ گیاتھا،چنانچہ حالیہ چارماہ قبل کےواقعہ میں اگرسائل نے اپنی بیوی کوصرف طلاق اول کاایسانوٹس بھیجاہو،جس میں صرف ایک بارصریح الفاظ میں طلاق دینے کے الفاظ درج ہوں تواس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی ، جس کے بعدسائل کوعدت کے دوران رجوع کاحق حاصل تھااوررجوع کے لیےمیاں بیوی کاباقاعدہ ہمبستری کرناشرعاًلازم وضروری نہیں، بلکہ زبانی طوربیوی کویہ کہہ دیناکہ "میں تم سے رجوع کرتاہوں "یا بوس وکنارکرلینے سے بھی رجوع ہوجاتاہے ،لہذاسائل کے دوران ِعدت بیوی سے بوس وکنارکرنے سے رجوع ہوچکا ہے ، چنانچہ سائل اوراس کی بیوی بغیرتجدیدنکاح میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ اس کے بعد سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے ، اگرکسی موقع پروہ بھی دیدی توبیوی طلاق مغلظہ کےساتھ اس پرحرام ہوجائے گی ،جس کے بعدبغیرحلالہ شرعیہ دوبارہ نکاح نہیں ہوسکے گا،لہذا آئندہ طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ،الخ (الفصل الخامس في الكنايات ،ج:١،ص:٣٧٤،مط : ماجدية)
وفي الدر المختار: فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام، الخ ،(باب الكنايات، ج :٣، ص: ٣٠١، مط: سعيد)
وفی الہندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اہ (الباب السادس فی الرجعۃ،ج: ١،ص: ٤٧٠، مط: ماجدية)
وفي رد المحتار تحت قوله حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع،وسيأتي وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف،(الى قوله) والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين، فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف كما في زمانهم. وأما إذا تعورف استعماله في مجرد الطلاق لا بقيد كونه بائنا يتعين وقوع الرجعي به كما في فارسية سرحتك ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح من وقوع الرجعي بقوله " سن بوش " أو " بوش " أول في لغة الترك مع أن معناه العربي أنت خلية، وهو كناية لكنه غلب في لغة الترك استعماله في الطلاق،(باب الكنايات، ج :٣، ص: ٣٠١، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة إذ لا رجعة في عدة الخلوة ابن كمال، وفي البزازية: ادعى الوطء بعد الدخول وأنكرت فله الرجعة لا في عكسه.
وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس
وفي رد المحتار تحت (قوله: كمس) أي بشهوة كما في المنح، ويفيده قوله: بما يوجب حرمة المصاهرة ح. قال في البحر: ودخل الوطء، والتقبيل بشهوة على أي موضع كان، فما أو خدا، أو ذقنا، أو جبهة، أو رأسا ، والمس بلا حائل أو بحائل يجد الحرارة معه بشهوة ، والنظر إلى داخل الفرج بشهوة بأن كانت متكئة ، وخرج ما إذا كانت هذه الأفعال بغير شهوة، أو نظر إلى داخل الفرج بشهوة ولو إلى حلقة الدبر فإنه لا يكون مراجعا لكنه مكروه كما في الولوالجية. وفي القنية ويصير مراجعا بوقوع بصره على فرجها بشهوة من غير قصد المراجعة. اهـ. وفي المحيط: ويكره التقبيل واللمس بغير شهوة إذا لم يرد الرجعة. اهـ (باب الرجعة ، ج: ٣، ص: ٣٩٧-٣٩٩، مط: سعيد)