ایک لڑکی ہے، اس کے شوہر نے جمعے کی شام اسے بذریعہ واٹس ایپ پر طلاق دی اور کہا تین دفعہ کہ میں تمھیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، پہلے اس نے غلط اسپیلنگ کا استعمال کیا یعنی "ٹاک،ٹاک،ٹاک" لکھا اور یہ اس طرح اس نے 10 مرتبہ لکھا پھر اس کے بعد اس نے اسپیلنگ ٹھیک کرکے 3 دفعہ لفظ "talak"لکھا، کیا طلا ق واقع ہوگی؟ جب کہ شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے طلاق دیتے ہوئے اس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی ، بلکہ وہ صرف لڑکی کو ڈرانا چاہ رہا تھا۔
واضح ہو کہ اگر شوہر اپنی مدخول بہا بیوی کو واٹس ایپ پر صریح الفاظ میں تین مرتبہ "طلاق دیتا ہوں"لکھ کر بھیج دے، تواس سے بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں ، چنانچہ اس کے بعد یہ کہنا کہ میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی ، بلکہ صرف ڈرانا مقصود تھا،وقوعِ طلاق سے مانع نہیں بنتا ؛ کیونکہ صریح الفاظِ طلاق میں نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ لڑکی کو اس کے شوہرنےدس مرتبہ غلط اسپیلنگ کے ساتھ الفاظ "ٹاک، ٹاک، ٹاک"لکھنےکے بعد تین دفعہ درست اسپیلنگ سے لفظ "talak"لکھ کر بھیج دیا تھا،تواس سے مذکور لڑکی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی جائز نہیں، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت عدتِ طلاق گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ: (قوله ما لم يستعمل إلا فيه) أي غالبا كما يفيده كلام البحر. وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلا نية، وأراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة اھ (باب صریح الطلاق، ج:3، ص:247، ط:سعید)۔