السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
سوال:میری بہن کا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً تین سال پہلے اس کے شوہر سے جھگڑا ہوا تھا۔ اس وقت اس نے طلاق کے کاغذات بھیجے تھے، لیکن ان پر دستخط نہیں کیے تھے اور نہ ہی زبان سے طلاق دی تھی، البتہ بار بار یہ کہتا تھا کہ "میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔" بعد میں خاندان والوں نے صلح کروا دی اور میری بہن دوبارہ اپنے شوہر کے گھر چلی گئی۔
اب دوبارہ جھگڑا ہوا تو اس نے پھر طلاق کے کاغذات بھیجے، لیکن ان پر بھی دستخط نہیں تھے۔ میری بہن نے وہ کاغذات قبول نہیں کیے، کیونکہ ان میں طلاق کی وجہ غلط لکھی گئی تھی اور اس پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے۔
اس مرتبہ اس کے شوہر نے میری بہن کے سامنے کئی مرتبہ (تقریباً دس بار) کہا کہ "میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں، میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔" پھر ہمارے گھر آ کر بھی لوگوں کے سامنے کہا کہ "میں نے اس کو طلاق دے دی ہے۔" اس کے بعد وہ یہ بھی کہنے لگا کہ "اپنا سامان لے جاؤ، میرے گھر مت آنا، تم میرے لیے غیر محرم ہو۔"
بعد میں ہم نے باقاعدہ صحیح طلاق کے کاغذات تیار کروائے اور اس سے ان پر دستخط بھی کروا لیے۔ اس کے بعد میری بہن عدت میں بیٹھ گئی۔ ابھی عدت کو تقریباً 20 دن ہوئے ہیں۔
اب دونوں دوبارہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم طلاق کے کاغذات میں ایک جگہ میری بہن کے نام میں ایک لفظ کی غلطی ہو گئی ہے، جبکہ باقی تمام جگہوں پر نام درست لکھا گیا ہے۔
اس صورتِ حال میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
شوہر کی مذکورہ باتوں سے شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
کیا صرف طلاق کے کاغذات بھیجنے سے، جبکہ ان پر دستخط نہ ہوں، طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
اگر طلاق واقع ہو چکی ہے اور ابھی عدت جاری ہے، تو کیا شوہر اپنی بیوی کو عدت کے دوران بغیر نئے نکاح کے واپس رکھ سکتا ہے، یا نیا نکاح ضروری ہوگا؟
طلاق نامے میں ایک جگہ نام کی معمولی غلطی ہونے سے طلاق پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کی رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہو کہ اپنی مرضی سے بلا جبر واکراہ محض طلاق نامہ خود لکھنے یا کسی اور سے لکھواکر بغیر دستخط کیے بیوی کو ارسال کرنے سےبھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے بہنوئی نے اگر طلاق نامہ خود لکھا ہو یا کسی اور سے بنواکر بھیجا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کی بہن پر طلاق نامہ میں درج طلاقیں ( خواہ ایک ہو یا تین) واقع ہوچکی ہیں ،اب اگرطلاق نامہ میں درج طلاقیں تین ہوں جیساکہ عام طور پر ہوتاہے، تو اس سے سائلہ کی بہن پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے، جبکہ تین طلاقوں کے بعد دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں تھا، جس پر دونوں کو بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کے کاموں سے اجتناب لازم ہے،البتہ سائلہ کی بہن عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،اور اگر صورت حال اس سے مختلف ہو تو اس کی وضاحت کرکے سوال دوبارہ بھیج دیا جائے ، ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیاجائے گا۔
کما فی الشامیۃ: قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3، ص:246، ط: سعید)
و فیہ ایضاً: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه اھ(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3، ص:247، ط: سعید)