میری بہن کو اس کے شوہر نے فون پر غصے کی حالت میں تین بار ‘طلاق’ کہا، کیا طلاق واقع ہو گئی؟
واضح ہو کہ فون پر غصے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں سائل نے طلاق کے الفاظ اور بولے گئے جملے تحریر نہیں کیے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم اگر سائل کے بہنوئی نے واضح اور صریح الفاظ میں تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہوں (مثلاً: تجھے تین طلاق ) یا الگ الگ جملوں (مثلاً:تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں) کے ذریعے تین طلاقیں دے دی ہو ں تو اس سے سائل کی بہن پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ۔اھ (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله۔ اھ(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
و في تحفة الفقهاء:وههنا حكمان أحدهما أن وقوع الطلاق بهذه الألفاظ يفتقر إلى نية الطلاق أم لا والثاني إذا قال المتكلم ما عنيت بهذا اللفظ الطلاق هل يصدق أم لا فنقول أما بيان الحكم الأول إذا ذكر لفظا يصلح للطلاق في غير حال مذاكرة الطلاق وحال الغضب كيفما كان فإذا نوى به الطلاق يقع وإن لم يكن له نية لا يقع لأنه كما يصلح للفرقة لأمر آخر فإن قوله بائن يحتمل بينونة الطلاق ويحتمل البينونة عن الخير أو عن الشر۔اھ(کتاب الطلاق،ج:2،ص:181،ط:دار الکتب العلمیہ)