میری اور میرے شوہر کی پسند کی شادی ہوئی تھی، اور ہم دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے۔ لیکن اچانک پچھلے سال میرے شوہر مجھ سے اکتا کر رہنے لگے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی وجہ ایک دوسری عورت تھی، اگرچہ اس وقت مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکال دیا اور اُس دوسری عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کر لیا۔ میں اور میری بیٹی دربدر ہو گئے، اور میں اپنے میکے میں رہنے لگی۔ تقریباً دو ماہ بعد اپنی بیٹی کی وجہ سے میں اپنے گھر واپس گئی، کیونکہ ہم الگ رہ رہے تھے۔ میں نے گھر کا تالا توڑ کر اندر داخل ہوئی۔ میرے شوہر غصے میں آئے، مجھے گھر سے نکال دیا اور کہا: "میری طرف سے تم فارغ ہو۔ میں طلاق کے کاغذات بھیج دوں گا، جاؤ۔" میں نے اُس وقت ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تقریباً دو ماہ بعد وہ خود مجھے واپس لینے آئے۔ اب ہم دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور الحمد للہ بہت خوش ہیں۔ لیکن میرے دل میں ایک پریشانی ہے کہ کہیں اس وقت ہمارے درمیان طلاق تو واقع نہیں ہو گئی تھی؟ میرے شوہر کہتے ہیں کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی، لیکن مجھے اس بارے میں شک ہے۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
واضح ہو كہ مذكور الفاظ " میری طرف سے تم فارغ ہو" چونكہ عرف مىں طلاق صريح بائن كے لىئے استعمال ہوتے ہىں ،جن سے بغير نىت بھى طلاق واقع ہوجاتى ہے، لہذا سائلہ كے شوہر نے اگر غصہ مىں مذكور الفاظ " میری طرف سے تم فارغ ہو " ادا كردىے تھے تو اس سے سائلہ پر اىك طلاق بائن واقع ہوچكى تھى، جس کے بعد تجدیدِ نکاح کے بغیر مىاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہ تھا، لہذا مذكور طلاق کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی دونوں تجدیدِ نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہے ہیں گناه گار ہوئے ہىں، جس پر بصدق دل توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔ چنانچہ اب اگر ىہ دونوں باہمی رضامندی سے میاں بیوی كى حىثىت سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں ،تو اس کے لئے باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم شوہر کے پاس آئندہ کیلئے دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، بشرطىكہ اس سے قبل کوئی طلاق نہ دى ہو، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہىے۔
كما في رد المحتار تحت قوله: ( حرام ) وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف، لا فرق في ذلك بين محرمة وحرمتك، (إلی قولہ) وكونه التحق بالصريح للعرف لا ينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام اهـ (كتاب الطلاق، باب الکنایات، ج: 3، ص: 298- 300، ط: سعید)
وفي بدائع الصنائع: فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد (إلى قوله) ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية اهـ [كتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3 ص:187 ط: دار الكتب العلمية]
وفي الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها اهـ [كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص:472 ط: رشيدية)