السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب!میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے وکیل کے ذریعے طلاق کے کاغذات تیار کروائے ہوں، جن میں دو گواہوں کے نام اور دستخط بھی موجود ہوں اور طلاق نامے میں تین طلاقیں لکھی گئی ہوں، لیکن ان کاغذات کی اصل (Original) کاپی نہ دی گئی ہو، بلکہ صرف PDF کی صورت میں بھیجی گئی ہو، تو کیا صرف اس بنیاد پر شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے؟یا جب تک اصل کاغذات وصول نہ ہوں یا شرعی طور پر طلاق کا عمل مکمل نہ ہو، اس وقت تک رجوع یا صلح کی گنجائش باقی رہتی ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟ اور اگر واقع ہو گئی ہے تو کیا رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے؟جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے یا کسی دوسرے سے طلاق نامہ بنوانے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا جب مذکور شخص ( شوہر) نے وکیل کے ذریعے طلاق کے کاغذات تیار کروائے جن میں دو گواہوں کے نام اور دستخط بھی موجود ہیں اور طلاق نامے میں تین طلاقیں لکھی گئی ہیں تو اگرچہ ابھی تک بیوی کو اصل (Original) کاپی نہ دی گئی ہو، بلکہ صرف PDF کی صورت میں وہ تحریر بھیجی گئی ہو، تب بھی شرعاً اس کی بیوی پر تحریر شدہ تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فورا بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ۔(البقرۃ ،آیت : 229،230)
و فی صحیح البخاري: وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔اھ (، کتاب الطلاق ج:2,ص:292ط: بشریٰ)
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج ۔اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج:1 ،ص:355 ط:ماجدیہ)
وفی رد المحتار: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. اھ (مطلب فی الطلاق بالکتابة،ج: 3، ص: 246، ط: دار الفکر)
وفی المصنف لابن أبي شیبة: عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق. اھ(کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، ج:9،ص:562،ط:علوم القرآن)