ہمارا تعلق اہلِ سنت والجماعت سے ہے، میری ہمشیرہ کو ان کے شوہر نے 18 اپریل 2026 کو ایک ہی مجلس میں زبانی طور پر تین طلاقیں دے دی ہیں، اس کے بعد 21 اپریل 2026ء کو یونین کونسل میں بھی طلاقِ اول کا نوٹس بھیج دیا ہے، اب اس سلسلے میں قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کی ہمشیرہ کو اس کے شوہر نے اگر واقعۃ صریح الفاظ طلاق "میں تمہیں طلاق دیتاہوں یا میں نے تمہیں طلاق دی" وغیرہ الفاظ سے تین بارطلاق دیدی ہوتواس سے سائل کی ہمشیرہ پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ،جبکہ عورت ایام عدت کے بعد کسی دوسرے جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ الآیۃ (سورۃ البقرۃ آیت 230)۔
و فی احکام القرآن للجصاصؒ : ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص 386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان) ۔
وفی صحيح البخاري: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»اھ(ج7 ص43 کتاب الطلاق ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ(ج1 ص473 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا الخ(ج1 ص349 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔