السلام علیکم ! عرض ہیکہ مفتی صاحب میرے شوہر بہت غصے کی حالت میں انہوں نے سب سے لڑائی کی ہے اور اپنی بہن کو بھی مارا ہے اور مجھے بھی مارا ہے اور غصے کی حالت میں ہوش میں نہیں تھےاور مجھے طلاق دے دی اور طلاق دیتے وقت یہ نہیں بولا کہ ''میں طلاق دیتا ہوں ''،بس یہی بولا ہے کہ طلاق،طلاق ،طلاق تو کیا اس سے طلاق ہوگئی ہے۔؟ براہ مہربانی مفتی صاحب اس مسئلے کا حل بتائیں،وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہے اور ہمیں یہ بتائیں کہ ہم ایک گھر میں رہ سکتے ہیں۔نیز شوہر بھی اس بیان کو تسلیم کر رہا ہے۔شکریہ
واضح ہو کہ وقوع طلاق کیلئے بیوی کا نام لینا یا اس کی طرف صریح نسبت کرنا ضروری نہیں بلکہ معنوی نسبت بھی کافی ہوتی ہے۔اگر کلام کے سیاق و سباق اور دلالت حال کو دیکھنے کے بعد معنوی نسبت پائی جاتی ہو تو ایسی صورت میں فقط ''طلاق،طلاق،طلاق'' کہنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔لہٰذا صورت مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں اگر مذکور الفاظ ''طلاق،طلاق،طلاق'' کہہ دیئے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتاہے۔لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، تاہم تین طلاقوں کے بعد سائلہ اور ان کا شوہر (سابقہ) ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہو چکے ہیں۔ اب ان کے لیے میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا، پردے کا لحاظ کیے بغیر میل جول رکھنا یا غیر ضروری گفتگو کرنا جائز نہیں البتہ مجبوری اور ضرورت کے پیشِ نظر، بچوں کی خاطر وہ ایک ہی گھر میں الگ الگ کمروں میں رہ سکتے ہیں، بشرطیکہ دو اجنبیوں کی طرح شرعی پردے کا مکمل اہتمام کیا جائے۔ اس صورت میں بھی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ غیر ضروری میل جول یا گفتگو سے سختی سے اجتناب کرنا چاہیے۔لیکن اگر اس ساتھ رہنے میں ان کو شرعی حدود سے تجاوز کر جانے اور گناہ میں مبتلا ہو نے کا اندیشہ ہو ،تو پھر یہ ساتھ رہنا بالکل جائز نہ ہوگااور اس سے اجتناب لازم ہوگا۔
کما فی رد المحتار على الدر المختار :(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ( تحت قوله) ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اهـ. ( [باب صريح الطلاق] ج:3، ص:248، مط:دار الفكر - بيروت)۔
وفیه أیضاً:(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق اهـ. ( [باب صريح الطلاق] ج:3، ص:248، مط:دار الفكر - بيروت)۔
وفیه أیضاً: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه اھ( باب العدۃ ،فصل في الحداد ج:3، ص:536، مط:دار الفكر - بيروت )۔
وفیه أیضاً: و لهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى .و سئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف اھ
(قوله: و سئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك".اھ(باب العدۃ، ج:3، ص:538، مط:سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ (کتاب الطلاق ج:3، ص:187، مط: دارالکتب العلمیة)۔