اسلام وعلیکم
میری پہلی زوجہ محترمہ نے دوسری شادی کرنے کی وجہ سے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا جس میں میری ٹانگ ٹوٹ گئی اور فون وغیرہ بھی چلے گئے اس ٹانگ ٹوٹنے کی وجہ سے میں آٹھ ماہ تک بستر پر رہااس بات کا علم کافی عرصہ کے بعد ہوا اور اس دوران اپنی پہلی زوجہ محترمہ کی دلی تسلی کے لیے میں نے اپنی دوسری زوجہ محترمہ کو فون پر جان بوجھ کر غلط نام لے کر طلاق دے دی او ر چارسال تک کوئی رابط نہیں کیا مہربانی فرما کر یہ واضح کر دیں آیا یہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں اور پہلی زوجہ محترمہ کی کیا سزا ہے،نوٹ:سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ اسکی پہلی بیوی کو اسکی دوسری بیوی کا نام معلوم نہیں تھا ،اور اسکی دوسری بیوی کا نام رضیہ تھا اس نے اپنی پہلی بیوی کے سامنے اپنی دوسری بیوی رضیہ کو فون ملا کر کہا کہ "فاطمہ"میں تجھے طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ طلاق بھی واقع نہ ہو اور میری پہلی بیوی کو بھی اطمئنان ہو۔
صورت مسؤلہ میں جب سائل نےاپنی دوسری بیوی کو فون پر مخاطب کرتے ہوئے صریح الفاظ میں (میں تجھے طلاق دیتا ہوں) تین مرتبہ کہہ دیئے تو اس سے اسکی دوسری بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی اگرچہ سائل نے اسکو اصل نام (رضیہ)کے بجائے فرضی نام (فاطمہ )سے پکارا ہو،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا جبکہ عدت مکمل ہوجانے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: ولو قال لامرأته ينظر إليها ويشير إليها يا زينب أنت طالق فإذا هي امرأة له أخرى اسمها عمرة يقع الطلاق على عمرة تعتبر الإشارة وتبطل التسمية كذا في فتاوى قاضي خان،اھ(كتاب الطلاق،الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج: 1،ص: 358،مط: دارالفکر)
و فیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة،ج: 1،ص: 473،مط: دار الفکر)
و فی المبسوط للسرخسی: وإن قال لامرأته يشير إليها: يا زينب أنت طالق فإذا هي عمرة طلقت عمرة، إن كانت امرأته، وإن لم تكن امرأته، لم تطلق زينب؛ لأن التعريف بالإشارة أبلغ من التعريف بالاسم، فإن التعريف بالإشارة يقطع الشركة من كل وجه، وبالاسم لا، فكان هذا أقوى،اھ(كتاب الطلاق، باب من الطلاق،ج: 6،ص: 121،مط: دارالمعرفۃ)