السلام علیکم؛ براہِ کرم آپ سے گزارش ہے کہ یہ مسئلہ طلاق کا ہے اور درخواست لڑکی اور اس کے شوہر دونوں کی رضامندی سے لکھی جا رہی ہے، لڑکی حمل سے ہے، ابھی چھ ماہ کا حمل ہے، ان کے گھر میں لڑائی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے لڑکے نے جذبات میں لڑکی کو ایک طلاق دی، اس وقت حمل شروع ہوا تھا، دو ماہ کا حمل تھا، پھر لڑکے نے بعد میں اپنی والدہ سے کہا میں نے اس کو طلاق دے دی ہے، لیکن لڑکی کا کہنا ہے کہ لڑکے نے ایک بار ہی طلاق دی ہے اور میں نے ایک بار ہی اپنے کان سے سنا ہے، اس کے بعد لڑکی اپنی ماں کے گھر پہ گئی، پھر لڑکے نے جذبات میں آکر طلاق نامے پر دستخط کر دیے اور لڑکی کو بھیج دیا ، لڑکی نے پھاڑ دئے، اب لڑکا اور لڑکی رابطے میں ہیں، اور دونوں دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں، اس وقت لڑکی حمل سے اپنی ماں کے گھر بیٹھی ہے، اب اس مسئلے کا کیا حل ہے آپ صحیح مشورہ دیں ، تاکہ دونوں کی زندگیاں برباد ہونے سے بچ جائیں شکریہ۔مزید تفصیل : شوہر مسمٰی عبد الرزاق کا بیان ہے کہ میں نے پہلے ایک مرتبہ زبانی طلاق دی (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں) اس کے بعد میں نے اپنی ساس کو اسی طلاق کے متعلق بتایا کہ میں نے اس کو طلاق دیدی، کوئی دوسری طلاق کا ارادہ نہیں تھا،پھر اس کے بعد میری بیوی والدہ کے گھر چلی گئی، پھر فون پر لڑائی ہوئی، اور میں نے جذبات میں آکر تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنوایا، اور لڑکی کو بھیج دیا، جسے لڑکی نے پھاڑ دیا تھا، اور اس دوران میری بیوی حمل سے تھی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ حالتِ حمل میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سائل نے جب اپنی حاملہ بیوی کو مذکور الفاظ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہنے کے بعد تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر لڑکی کو بھیج دیا تو اس سے بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر تین طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی جائز نہیں،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں ، اور میاں بیوی والے تعلقات بالکل بھی قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت کی عدت وضعِ حمل پر پوری ہوجائے گی، اس کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: هو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز اھ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، الفصل الاول فی الطلاق الصریح، ج:1، ص:354، ط:رشیدیۃ)،
وفی الدر المختار: وأنواعها حيض، وأشهر، ووضع حمل كما أفاده بقوله (وهي في) حق (حرة) اھ (باب العدۃ، ج:3، ص:504، ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ: (قوله كتب الطلاق إلخ) ۔۔۔ المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ (مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ج:3، ص:246، ط:سعید)۔