محترم جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ سا ئٹ کراچی!
گزارش ہے کہ میری شادی کو تقریبا چار سال ہو چکے ہیں، اب مسئلہ یہ کہ میری بیوی تقریبا ًایک ہفتے سے اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہے تقریبا ًجاتی ہے تو واپسِ آجاتی ہے، اس بار گئی تو آئی نہیں، میں نے ان کو کہا کہ میری بیوی اور بچوں کو میرے پاس بھیج دو ۔ میں ان کے گھر گیا ، وہاں ان کے دادا کے ساتھ بات ہوئی مگر اس کے دادا میرے گھرآگئے اور میں نے بولا ''تین بار طلاق، طلاق، طلاق'' آیا اس صورت میں میری بیوی کو طلاق ہو گئی یا کوئی گنجائش ہے ؟ دوسرا میرا نفسیاتی مسئلہ بھی ہے ،میرا علاج چل رہا ہے ،میں ذہنی مریض ہوں۔ جواب دیں شکریہ۔
صورت مسؤلہ میں جب سائل نے بیوی کے گھر نہ لوٹنے پر غصے میں آکر مذکور الفاظ ''طلاق ،طلاق، طلاق'' کے الفاظ کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں و اقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا اب دونوں کیلئے ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ۔ جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی۔
کما فی رد المحتار على الدر المختار :(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ( تحت قوله) ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ. ( [باب صريح الطلاق] ج:3، ص:248، مط:دار الفكر - بيروت)۔
وفیه أیضاً:(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. ( [باب صريح الطلاق] ج:3، ص:248، مط:دار الفكر - بيروت)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ(کتاب الطلاق ج:3، ص:187، مط: دارالکتب العلمیة)۔
وفي الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 473، مط: ماجدية )۔