میرا سوال یہ ہے ! کیا اسٹامپ پیپر پر سگنیچر کرنے سے طلاق ہوجاتی ہے ؟سگنیچر لڑکے نے خود کیے ہیں،۳ کیے ہیں،زبان سے نہیں دی ، طلاق واپسی کی کوئی گُنجائش بن سکتی ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لیے الفاظ طلاق زبان سے کہنا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ طلاق کے الفاظ تحریر کرنے یا تحریر کردہ طلاق نامہ پر دستخط کر دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، جبکہ سائل نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جس طلاق نامہ پرشخص مذکور نے دستخط کیاہے، اس میں کن الفاظ کے ساتھ کتنی طلاقیں لکھی ہوئی تھی؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیاجاتا، تاہم اگرطلاق نامہ تین طلاقوں پر مشتمل ہو ،جس کا مذکور شخص کو علم بھی ہو ، تو اس پر دستخط کرنے سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،چنانچہ اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرے، یہ مکروہِ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿فإن طلقہا فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ﴾ (البقرۃ:۲۳۰)۔
وفي صحيح البخاري : عن عائشة قالت : جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إني كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وما معه إلا مثل هدبة الثوب فقال : " أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟ " قالت : نعم قال : " لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك۔" ( باب شهادۃ المختبی ج: ٢، ص: ١٢٤٣ ، ، مط: البشرى)۔
وفي الدر المختار:کتب الطلاق ان مستبینا علی نحو لوح وقع إن نوی وقیل مطلقًا ۔اھ تحت (قوله کتب الطلاق الخ) (إلى قوله) وإن کانت مرسومة یقع الطلاق نوی اولم ینو۔ الخ ( مطلب في الطلاق بالكتابة ج:3، ص:246، مط:دار الفكر - بيروت)۔
وفی الھدایة:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل له حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ( فصل فيما تحل به المطلقة ج:2، ص:399، مط:دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)