کیا دیکھنے سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی حصے کو دیکھا ہو ،اگر مرد نے شہوت سے کسی عورت کو برہنہ حالت میں دیکھ لیا ہو جب عورت کھڑی ہوئی ہو اور اس کی نظر عورت کی شرم گاہ پر پڑ جائے تو کیا اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی ؟
واضح ہو کہ اگر کسی مرد نے شہوت کے ساتھ کسی عورت کے صرف ظاہری جسم کو دیکھا ہو، لیکن فرج داخل پر نظر نہ پڑی ہو تو اگرچہ اس فعل کی وجہ سے وہ بہت سخت گناہ گار ہوا ہے،تاہم اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ، البتہ اس پر اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ کرنا اور آئندہ اس طرح کے گناہ سے مکمل اجتناب کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي ابن كمال وغيره (فصل فی المحرمات، ج:3، ص:32، ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء إلا بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء لا عن شهوة بلا خلاف، كذا في البدائع. والمعتبر النظر إلى الفرج الداخل هكذا في الهداية. وعليه الفتوى هكذا في الظهيرية وجواهر الأخلاطي. قالوا: لو نظر إلى فرجها وهي قائمة لا تثبت حرمة المصاهرة، وإنما يقع النظر في الداخل إذا كانت قاعدة متكئة، كذا في فتاوى قاضي خان اھ (کتاب النکاح، الباب الثالث، القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ، ج:1، ص:274، ط:رشیدیۃ)۔