جناب مولنا صاحب!2019 میں میری شادی ہوئی تھی میرے ماموں کے بیٹے سے، چند سال ٹھیک گزرے، اس کےبعد میرے شوہر نے نشہ شروع کر دیا ،جس کی وجہ سے نشہ کی حالت میں وہ مجھ پر تشدد کرتا تھا ،پھر بھی میں نے صبر کیا اور سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کی مگر اس نے پھر بھی اپنی مارپیٹ جاری رکھی اور ایک دن ایسا ہوا کہ وہ میری نانی کے گھر آئے، میں اپنی نانی کے گھر پر موجود تھی، تین گواہوں کے سامنے اس نے مجھے پورے ہوش و حواس میں طلاق دے دی،طلاق کے الفاظ یہ ہےکہ" تہ پہ ما طلاقہ ئے“تین مرتبہ کہا۔ جب اس نے مجھے طلاق دی تو میں حاملہ تھی 15 دن کے بعد میراحمل ضائع(miscarriage)ہو گیا، میں غریب لڑکی ہوں ،میرا ایک بیٹا ہے جو چھ سال کا ہے، اب میں جوان ہوں ،اور اپنے بیٹے کے ساتھ زندگی گزار نا چاہتی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ جلد میری شادی ہو جائے اور میرے بیٹے کو باپ کا نام مل جائے، برائے مہربانی آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں شادی کر سکتی ہوں ؟ ایک دفعہ دینے کے بعد اس نے مجھے پھر طلاق دی اور تین تھپڑدے کر کہ تجھے طلاق دیتاہوں ، طلاق دیتاہوں، طلاق دیتاہوں۔ نوٹ:حمل تین مہینے کا تھا،اعضاء ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
واضح ہو کہ حالت حمل میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا بیان واقعۃدرست اور حقیقت پر مبنی ہو کہ اس کے شوہر نے اسے”تہ پہ ما طلاقہ ئے “(تو مجھ پر طلاق ہے)کےالفاظ تین مرتبہ بولے ہوں تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب نہ رجوع ہو سکتا اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے۔جبکہ حمل چونکہ ناقص تھا اس کے ضائع اور ساقط ہونے سے عدت مکمل نہیں ہوئی اب تین ماہواریوں کے ساتھ عدت مکمل کرنے کے بعد کسی بھی دوسرے شخص کے ساتھ سائلہ شادی کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔الآیۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔اھ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:473،ط:ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: ( و ) انقضاء ( العدۃ من الاخیر وفاتاً) لتعلقہ بالفراغ ( و سقط ) مثلث السین: أی مسقوط ( ظھر بعض خلقہ کید أو رجل ) أو اصبغ أو شعر، و لا یتبین خلقہ الا بعد مائۃ و عشرین یوماً ( ولد) حکما ( فتصیر ) المرأۃ ( بہ نفساء و الامۃ أم ولد و یحنث بہ ) فی تعلیقہ و تنقضی بہ العدۃ، فإن لم یظھر لہ شیء فلیس بشیء الخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ: أی مسقوط ) الذی فی البحر التعبیر بالساقط و ھو الحق لفظاً و معنی، أما لفظاً فلان سقط لازم لا یبنی منہ اسم المفعول، و اما معنی فلان المقصود سقوط الولد سواء سقط بنفسہ أو اسقطہ غیرہ الخ ( مطلب فی احوال السقط و احکامہ، ج: 1، ص: 302، ط: سعید )۔