السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میں ایک بہت پریشانی میں ہوں ،میری بیوی نے مجھ سے حد سے زیادہ بدتمیزی کی جس کی وجہ سے میں نے بے حد غصہ میں آکر تین بار طلاق کے مذکور الفاظ " میں سفیان تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں " بول دیئے ،لیکن میں نے بیوی کا نام نہیں لیا ، جب میں نے یہ الفاظ بولے تو میں بیوی سے 30 ۔40 فٹ دور کھڑا تھا ، میں باالکل بھی حوش میں نہیں تھا اس وقت کہ کیا اور کیوں بول رہا ہوں ،میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہوکہ طلاق کے وقوع کے لئے بیوی کا نام لینا یا اس کا الفاظ طلاق سننا شرعاً ضروی نہیں بلکہ اس کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں سفیان تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں " کہہ دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،ایساکرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
ال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (بخاري شریف، کتاب الطلاق ج:2,ص:292)
وفی تنویرالابصار:ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدااومکرھا اوھازلا اوسفیھا او سکرانا اھ(ج:3،ص:235)
وفی الھدایۃ:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(ج:2،ص:399) واللہ اعلم