السلام علیکم ورحمة اللہ! میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اور ویڈیو کال کے ذریعے اپنی بیوی کے ساتھ بات کرتا ہوں۔ تین دن پہلے میں نے شدید غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو کہہ دیا کہ میں تمہیں اپنے ہوش و حواس میں ایک طلاق دیتا ہوں، لیکن جیسے ہی میں نے اتنا بولا کہ "میں اپنے ہوش و حواس میں" تو میری بیوی نے کال کاٹ دی تھی۔ بعد میں جب دوبارہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ بات کی تو اس نے کہا کہ میں قرآن کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں نے آپ کے طلاق کے الفاظ نہیں سنے، میں نے صرف اتنا سنا تھا کہ "میں اپنے ہوش و حواس میں" تو میں نے کال کاٹ دی، مجھے نہیں پتہ کہ اس کے بعد آپ نے کیا الفاظ ادا کیے۔ تو کیا ایسی صورت میں ایک طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ اگر ہو جاتی ہے تو رجوع کیسے کیا جا سکتا ہے؟ نیز کیا رجوع گواہ بنائے بغیر کر سکتا ہوں؟ کیونکہ احتمال ہے کہ اگر میں نے اپنے گھر والوں کو بتایا تو وہ رجوع پر راضی نہیں ہوں گے اور یہ رشتہ مکمل ختم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ تو کیا کسی کو بتائے اور گواہ بنائے بغیر رجوع کر سکتا ہوں؟ راہنمائی کر دیں، شکریہ۔
واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کیلئے بیوی کا الفاظِ طلاق سننا شرعاً ضروری نہیں ،بیوی کے سنے بغیر بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنے ہوش و حواس میں "میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں" کا جملہ پورا ہے، تو اگر سائل کی شادی اور اپنی بیوی سے خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے، اور اب وہ دورانِ عدت (تین ماہواریاں مکمل ہونے سے پہلے اور اگر سائل کی بیوی حمل سے ہو تو ولادت سے پہلے )رجوع کر سکتا ہے۔ رجوع کے لئے گواہ بنائے بغیر زبان سے اپنی بیوی کو فون کر کے اتنا بول دینا کافی ہے کہ "میں تجھ سے رجوع کرتا ہوں اور بیوی بنا کر رکھتا ہوں" اس طرح بولنے سے نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا اور تجدیدِ نکاح کی ضرورت بھی نہیں ہوگی، لیکن اگر دورانِ عدت رجوع نہ ہوا تو عدت کے بعد باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح ضروری ہوگا۔
کما فی الدر المختار:(وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوة الرتقاء (باب العدۃ ،ج:3، ص: 504،ط:سعید)
و فی الہندیۃ:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.( ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.اھ(الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:468،ط:ماجدیۃ)