عورت نے اپنے شوہر سے خلع لی، اب وہی عورت دوبارہ اسی شوہر سے رجوع کرنا چاہتی ہے، تو اب کیا کرے ؟
صورت مسؤلہ میں مذکور عورت نے اگر اپنے شوہر کی اجازت ورضامندی سے خلع کے الفاظ کے ساتھ خلع لی ہو اور شوہر نے اس سے قبل یا دوران عدت مزید طلاقیں نہ دی ہوں ، تو اس خلع کی وجہ سے اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی تھی ،چنانچہ اگرمیاں بیوی باہمی رضامندی سےساتھ رہنا چاہیں تو عدت کے اندر یاعدت کے بعد نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں۔شرعا ًاس میں کوئی قباحت نہیں ،لیکن آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہیگا ،اس لئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط ضروری ہوگی۔
کما فی الفتاوى الهندية:إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها اھ ( فصل فیما تحل به المطلقة وما یتصل به ج:1،ص:473، مط:ماجدية)
وفی البناية شرح الهداية: وأما كون الخلع بائنا فلما روى الدارقطني في كتاب " غريب الحديث " الذي صنفه عن عبد الرزاق عن معمر عن المغيرة عن إبراهيم النخعي أنه قال: الخلع تطليقة بائنة، وإبراهيم قد أدرك الصحابة وزاحمهم في الفتوى، فيجوز تقليده، أو يحمل على أنه شيء رواه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنه من قرن العدول فيحمل أمره على الصلاح صيانة عن الجزاف والكذب، انتهى.( [باب الخلع] [تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله]ج:5، ص:506، مط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)۔