کیا فرماتےہیں علماء کرام مندجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ فاطمہ بنت جمشید کا نکاح مسمیٰ طاہر ولد اقبال سے تقریباًتین سال قبل ہوگیا تھا، اس نکاح سے ہماری ایک بچی بھی ہے، آج سے تقریباً ایک سال قبل گھر میں ہم دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی، شوہر نے مجھے مارا، تو میں نے اس کو کہا کہ میں نیچے جاکر آپ کی ممانی سے موبائل لیکر آپ کی ماں کو بتاتی ہوں، تو اس نے شیشے کو تین ٹکڑے کرکے ایک ، ایک ٹکڑا میری طرف پھینکتا گیا، اور کہتا گیا ، یہ لو ، یہ لو ، یہ لو، " دا واخلہ ، داواخلہ، دا واخلہ" اور پھر مجھے بتا یا کہ یہ تو میں نے طلا ق کی نیت سے ہی دیئے ہیں ، لیکن طلاق کے الفاظ منہ سے نہیں نکالے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے درمیان طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟ اور اب آئندہ ہمار ے لیے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگرغصے کی حالت میں شیشے کے ٹکڑے پھینکتے ہوئےصرف "دا واخله، دا واخله، دا واخله" کے الفاظ کہےہوں،صریح الفاظ ِطلاق یا طلاق کے معنی و مفہوم پردلالت کرنے والے کسی قسم کے الفاظ زبان سے ادانہ کیے ہوں توچونکہ مذکورالفاظ کےمعنی عرفاً ’’یہ لو‘‘کےآتےہیں ،ان الفاظ سےطلاق کامعنی و مفہوم اخذ نہیں ہوتا، اس لیےان الفاظ سے طلاق کی نیت کرنے کے باوجودکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، لہٰذا میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے، البتہ سائلہ کے شوہرکو آئندہ ایسے مبہم الفاظ استعمال کرنے سے بھی احتراز چاہیے۔
کما فی الدر المختار مع التنویر الابصار: هو) (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق، (کتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٢٧، مط: سعيد)
وركنه لفظ مخصوص خال عن الاستثناء، وفيه أيضاً:
و في رد المحتار تحت(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي، وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره. (کتاب الطلاق، رکن الطلاق، ج:٣، ص:٢٣٠، مط: سعید)