کیا فرماتے ہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا آج سے تقریباً دو ڈھائی سال قبل نکاح ہو گیا تھا، اس نکاح سے ایک بیٹا بھی ہے ، آج سے تقریباً چار دن قبل رات کے وقت گھر میں لڑائی جھگڑے کے دوران طلاق کے الفاظ بولے گئے ہیں، جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہے۔
بیوی کا حلفیہ بیان: میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی ،اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، رات کو شوہر نے جماع کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا صبر کرو ، بچہ سو جائے، لیکن یہ نہیں مانا اور غصہ ہوا اور غصہ میں مجھے کہا: " طلاق اوزہ" طلاق نکل جاؤ، پھر میں نے اس کو کہا کہ دو مرتبہ اور بھی بول دو اس نے پھر کہا: " طلاق، طلاق اوزہ" طلاق طلاق نکل جاؤ۔
شو ہر کا حلفیہ بیان :میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ، رات کو میں نے صرف دو مرتبہ ہی طلاق کے الفاظ بولے ہیں کہ "طلاق، طلاق"، تین مرتبہ ہرگز نہیں بولا اور صبح دن کے گزارنے کے بعد شام کو ساس اور سالے کو بھی میں نے یہی کہا ،کہ میں نے غصے میں دو مرتبہ طلاق دی ہے، غلطی ہو گئی ہے ۔
ساس کا بیان یہ ہے کہ میری بیٹی نے جب مجھے فون پربتایا کہ اس نے مجھے طلاق دی ہے ،تو میں بیٹے کے ساتھ ان کے گھر گئی، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے غصہ میں طلاق دی ہے، یہ نہیں کہا کہ ایک مرتبہ دی ہے یا تین مرتبہ دی ہے بس صرف طلاق کے دینے کا اقرار کیا۔
سالے کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں نے جب ان سے پوچھا، تو اس نے کہا کہ میں نے غلطی سے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں، بس غلطی ہو گئی ہے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے،نیزغلط بیانی یاجھوٹ بول کرفتوی حاصل کرلینے سے کوئی حرام ،حلال نہیں بنتا ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کا شوہر بھی چونکہ دو دفعہ "طلاق"کے ان الفاظ "طلاق، طلاق" کہنے کا اقرار اور اعتراف کررہا ہے، اس لئے سائلہ پر دو طلاق تو بہرحال واقع ہوچکی ہے، البتہ سائلہ دو طلاقوں کے علاوہ مزید ایک طلاق کا بھی دعویٰ کررہی ہے،لیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے پرمکمل شرعی شہادت (دومرد یا ایک مرد اور دو عورتیں )موجود نہیں ،جبکہ شوہرتیسری طلاق دینے سےانکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو، مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہراس کے دعوی کوردکرتےہوئے طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المراۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہوجاتا ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیے کہ حتی الامکان شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (الی قولہ): (ويقع بها واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينوشيئا)، الخ (باب الصريح ، ج: 3، ص: 250۔247، مط: سعید کراچی)
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قوله: (ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله،الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 244، مکتبۃ رشیدیۃکوئٹۃ)
وفی رد المحتار تحت قول الدر(دين فقط): والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. (باب صريح الطلاق ، ج: 3، ص: 251، مط: سعید کراچی)
وفی الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی: قال: "وما سوى ذلك من الحقوق يقبل فيها شهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا أو غير مال" مثل: النكاح والطلاق والعتاق والعدة، الخ ( كتاب الشهادات، ج: 3، ص: 116، مط: دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)
وفیہ ایضاً: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها ( باب الرجعة، ج: 2، ص: 254، مط: دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)