مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر بالکل سچائی کے ساتھ اپنی اصل کیفیت آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں تاکہ مجھے شریعت کی رو سے صحیح حکم معلوم ہو سکے۔
میں اس وقت شدید ذہنی دباؤ، اکیلے پن، شدید غصے اور وسوسوں (شک اور وہم کی بیماری) کا شکار ہوں۔ میری بیگم دو ماہ پہلے بغیر بتائے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں، جس کی وجہ سے میں سخت صدمے، ڈپریشن اور مغلوب الغضب (شدید غصے) کی حالت میں ہوں اور ہمیشہ اپنے کمرے میں اکیلا رہتا ہوں۔
کوئی دوست نہ ہونے کی وجہ سے میری ایک پرانی عادت ہے کہ میں سارا دن کمرے میں اکیلے بیٹھ کر خود سے باتیں (خود کلامی) کرتا ہوں، خیالی دنیا (Imagination) بناتا ہوں اور مختلف فرضی منظرنامے (Scenarios) سوچتا رہتا ہوں۔ اب یہ خود کلامی کی عادت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ میں اکثر اکیلے میں بولتا رہتا ہوں، اور کئی دفعہ بولنے کے فوراً بعد میرا دماغ بالکل 'وائٹ سلیٹ' (بالکل خالی) ہو جانا ہے اور مجھے اسی وقت بھول جاتا ہے کہ میں نے کیا بولا تھا۔ جب میں اسے دوبارہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو شدید بے چینی بڑھ جاتی ہے اور صرف دھندلا سا یاد آتا ہے۔
اس حالت میں، میں نے اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے غصے اور فرسٹریشن میں زبان سے تین مرتبہ یہ الفاظ ادا کیے: "میں معروف الحسن اپنی بیگم (بیگم کا نام یہاں لکھیں) کو ڈائیورس کرتا ہوں"۔ مجھے پکا یقین ہے کہ میں نے یہ الفاظ صرف ایک ہی مجلس میں تین دفعہ کہے تھے، اس کے علاوہ زندگی میں کبھی بھی کسی اور مجلس یا دن میں یہ الفاظ دوبارہ دہرانا مجھے بالکل یاد نہیں ہے۔ زبان سے یہ الفاظ تین مرتبہ کہنے کے دوران پہلی دو مرتبہ میں انتہائی شدید غصے (پاگل پن اور جنونیت کی حد تک) میں تھا، اور تیسری مرتبہ کہنے کے بعد فوراً میرے دل میں یہ احساس اور پچھتاوا آیا کہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اب مجھے یہ خوف بھی کھا رہا ہے کہ اپنا یہ مسئلہ دہرانے یا آپ سے پوچھنے کے دوران طلاق کے الفاظ زبان پر آنے سے کہیں مزید طلاق نہ ہو جائے۔
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ میرا حافظہ (Memory) اس واقعے کی حقیقت کے بارے میں سخت شک اور ابہام کا شکار ہے، اور میرے ذہن میں مسلسل متضاد خیالات آ رہے ہیں:
پہلا خیال: مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے یہ بات ایک فرضی اور خیالی شرط کے طور پر کہی تھی کہ: "اگر میں اپنے سسرال کے گھر ہوتا اور یہ میرے سامنے ہوتی تو میں اس کو یوں کہتا (پھر میں نے تین بار طلاق کے الفاظ کہے)"۔ ایک رات مجھے اس بات کا ۱۰۰٪ یقین ہو گیا تھا اور میں نے شکرانے کا سجدہ بھی کیا تھا۔
دوسرا خیال: لیکن صبح اٹھتے ہی میرا دماغ بدل گیا اور اب یہ وسوسہ آ رہا ہے کہ نہیں، میں نے خود سے یہ بھی کہا تھا کہ "یاد رکھنا اس دفعہ میں نے بغیر کسی اگر مگر (شرط) کے ڈائریکٹ بات کی ہے"۔
تیسرا خیال: مجھے یہ بھی شک ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک ہی دن (ایک مجلس) میں ہوا تھا یا دو الگ الگ دنوں میں ہوا تھا۔
چوتھا خیال (نیت کے بارے میں): مجھے یہ وسوسہ اور شک بھی آ رہا ہے کہ شاید اس وقت دل میں کچھ کچھ نیت بھی تھی یا پھر میں نے بس اچانک کھڑے کھڑے ہی غصے میں یہ الفاظ کہہ دیے تھے۔ اس وقت میرا دل اور دماغ ان تمام باتوں کے درمیان سخت الجھن اور شک کا شکار ہے اور مجھے کچھ پکا یاد نہیں آ رہا۔
اس واقعے کی وجہ سے پچھلے ایک ہفتے سے میری نیند بالکل اڑ چکی ہے۔ میں نے یاد کرنے کے چکر میں کھانا پینا انتہائی کم کر دیا ہے اور کثرت سے چائے پی رہا ہوں جس سے مجھے بار بار پیشاب کا عارضہ لاحق ہے۔ اضطراب اور گھبراہٹ اس حد تک ہے کہ میں نے نیند اور ٹینشن کی گولی زینڈکس (Zeenax) لی ہے، اور اس وقت بھی میں شدید غنودگی اور دوا کے اثر کی حالت میں ہوں۔ میرا دماغ ۲۴ گھنٹے چل رہا ہے اور مسلسل کہانیاں بدل رہا ہے، جس سے میرا بلڈ پریشر بھی خراب رہتا ہے اور بعض اوقات دل پر شدید بوجھ اور سانس اکھڑنے لگتی ہے۔
مزید یہ کہ ہماری شادی کو 14 سال ہو چکے ہیں اور میری بیگم کبھی ناراض ہو کر میکے نہیں گئیں۔ اس دفعہ ان کے دو مہینے سے اچانک چلے جانے اور بچوں سے مکمل دوری کے صدمے کی وجہ سے مجھ پر یہ شدید ڈپریشن اور فرسٹریشن کا دورہ پڑا تھا جس میں میں نے اکیلے کمرے میں خود کلامی کے دوران یہ الفاظ بولے۔
آپ سے گزارش ہے کہ میری اس بیماری (خود کلامی، فوراً بھول جانا، دماغ کا خالی ہونا، نیت و الفاظ کے بدلتے ہوئے شکوک و وسوسے)، شادی کے 14 سالہ ریکارڈ، بچوں کی دوری کے صدمے، شدید غصے، نیند کی کمی، دوا کے اثر اور پکے یقین کے نہ ہونے (شک و تردد کی حالت) کو مدنظر رکھتے ہوئے حنفی فقہ کی رو سے شرعی حکم بیان فرما کر تحریری فتویٰ جاری فرمائیں تاکہ میرا یہ عذاب ختم ہو سکے۔
المستفتی: معروف الحسن
مقام: ملتان
واضح رہے کہ ”ڈائیورس“ انگریزی اور اردو زبان میں صریح طلاق کے معنی میں بولا جاتا ہے، چنانچہ اس سے طلاق واقع ہونے کے لئے شرعاً نیت کی ضرورت نہیں، بلکہ بلانیتِ طلاق بھی بیوی کو بولنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح تین طلاقیں چاہے ایک مجلس میں ایک ساتھ دی جائیں یا دورانِ عدت مختلف مواقع اور وقفے سے دی جائیں ،بہرحال اس سے تین طلاقیں ہی واقع ہوجاتی ہیں۔ اس بنا پر سائل کو اس سلسلے میں عارض ہونے والے شکوک( کہ ایسا ہوا تھا یا نہیں ہوا تھا) سے وقوعِ طلاق پر شرعاً کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
البتہ تیسری صورت کہ سائل تصورات اور خیالات میں سسرال گیا تھا اور تصور و خیال میں اس کے سامنے بیوی آئی اور ان خیالات میں وہ ایسا مستغرق تھا کہ خیالات اس کی عقل پر غالب آگئے ہوں اور بیوی کے ساتھ خیالی ہم کلامی میں طلاق سے متعلق سوال میں مذکور جملہ بے اختیار اور بلا کسی قصد کے اس کی زبان پر جاری ہوگیا تو ایسی صورت میں سائل کے مذکور جملے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اور اگر یہ صورت نہ تھی بلکہ بیوی کے ناراض ہو کر میکے میں جانے کی وجہ سے سائل کو شدید غصہ آ رہا تھا، جس کے نتیجے میں اس نے فیصلہ کر کے مذکورہ جملہ” میں معروف الحسن اپنی بیگم کو ڈائیورس کرتا ہوں“ تین دفعہ بول دیا تھا، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مُغلظَّہ ثابت ہو چکی ہے، جس کے بعد میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا قطعاً جائز نہیں۔ اس صورت میں نہ رجوع کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ عقد ِنکاح کرنا جائز ہے۔
لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ دنیاوی مفادات سے قطعِ نظر ،خوفِ خدا اور مؤاخدۂ اخروی کو مدِّنظر رکھتے ہوئے غور و فکر کرے، پھر جس پہلو کا یقین یا غالب گمان ہو اس کے مطابق عمل کرے، کیونکہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اس لئے کوئی دوسرا شخص سائل کے معاملے میں حتمی طور پر کوئی پہلو غائبانہ متعیِّن نہیں کر سکتا۔ لہٰذا سائل ہی شرعاً اس بات کا پابند ہے کہ اسے جس پہلو کا یقین یا غالب گمان ہو اس کے مطابق عمل کرے۔
لیکن اگر کسی ایک پہلو کی تعیین سائل سے نہ ہو رہی ہو تو چونکہ مذکور جملے سائل سے صدور یقینی اور اس کا مفہوم واضح ہے، اس لئے اس جملے کے تین دفعہ بولنےسے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ غلیظہ ثابت شمار ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة.الخ (کتاب الطلاق، الباب الأول، فصل فیمن یقع طلاقه، ج1/ ص353، ط: دارا لفکر)۔
و فی الفقہ الاسلامی: طلاق المجنون والمدهوش: ولا يصح طلاق المجنون، ومثله المغمى عليه، والمدهوش: وهو الذي اعترته حال انفعال لا يدري فيها ما يقول أو يفعل، أو يصل به الانفعال إلى درجة يغلب معها الخلل في أقواله وأفعاله، بسبب فرط الخوف أو الحزن أو الغضب، لقوله صلى الله عليه وسلم: «لا طلاق في إغلاق»والإغلاق: كل ما يسد باب الإدراك والقصد والوعي، لجنون أو شدة غضب أو شدة حزن ونحوها.طلاق الغضبان: يفهم مما ذكر أن طلاق الغضبان لا يقع إذا اشتد الغضب، بأن وصل إلى درجة لا يدري فيها ما يقول ويفعل ولا يقصده. أو وصل به الغضب إلى درجة يغلب عليه فيها الخلل والاضطراب في أقواله وأفعاله."(القسم السادس، الباب الثانی، المبحث الثانی، طلاق المجنون،9/ 6883، ط: دار الفکر)۔
وفی الھندیۃ: ولا يجوز تصرف المجنون (الی قولہ) والمعتوه كالصبي العاقل في تصرفاته وفي رفع التكليف عنه واختلفوا في تفسيره اختلافا كثيرا وأحسن ما قيل فيه هو من كان قليل الفهم مختلط الكلام فاسد التدبير إلا أنه لا يضرب ولا يشتم كما يفعل المجنون، كذا في التبيين الخ (الباب الاول فی تفسیر الحجر ج5 ص54 ط:رشیدیہ)۔
وفی الشامیۃ:الجنون اختلال القوة الممیزة بین الأشیاء الحسنة والقبیحة المدرکة للعواقب( ج4 ص83 ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: يجب أن يعلم بأن العمل بغالب الرأي جائز في باب الديانات، وفي باب المعاملات، وكذلك العمل بغالب الرأي في الدماء جائز، كذا في المحيط.(کتاب الکراهیة، الباب الثاني في العمل بغالب الرأي، 313/5، ط:دار الفکر)۔
و فی الاشباہ و النظائر لابن نجیم: ومنها: شك هل طلق أم لا لم يقع. شك أنه طلق واحدۃ أو أکثر،بنیٰ علی الأقل کما ذکرہ الإسبیجابي إلا أن یستیقن بالأکثر، أو یکون أکبر ظنه علی خلافه.(ص:52 ط: دار الکتب العلمیة)۔
و فی رد المحتار تحت ( قولہ: ظناً قویاً ) أی غالباً ( الی قولہ ) واذا عقد القلب علی احدھما و ترک الآخر فھو اکبر الظن و غالب الرأی الخ ( باب التیمم ج۱ ص ۲۴۷ ط: سعید )۔
و فی الشامیۃ تحت (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ.(الی قولہ)أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله. الخ (كتاب الطلاق باب صريح الطلاق ج:3 ص:250۔248 ط: سعيد۔باکستان)۔
فتح القدیر: والحاصل أنه إذا قصد السبب عالما بأنه سبب رتب الشرع حكمه عليه أراده أو لم يرده إلا إن أراد ما يحتمله. وأما أنه إذا لم يقصده أو لم يدر ما هو فيثبت الحكم عليه شرعا وهو غير راض بحكم اللفظ ولا باللفظ فمما ينبو عنه قواعد الشرع. الخ(كتاب الطلاق باب إيقاع الطلاق ج:4 ص:5 ط: دار الفكر۔بیروت)۔