کیافرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ گھر میں کچھ ناچاقی اور غصہ کی بناء پر میں نے اپنی بیوی کو پہلے غصہ میں یہ کہا: "کہ دا زما دہ اجازت نہ بغیر دہ کور نہ اووَتہ نو پہ ما بہ طلاقہ یی" ترجمہ: اگر یہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو مجھ پر طلاق ہوگی" ، پھر اس کے بعد غصہ میں کہا کہ: "طلاقہ ئے، طلاقہ ئے ، طلاقہ ئے" ترجمہ: "تم مجھ پر طلاق ہو،طلاق ہو،طلاق ہو" ۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ واپسی کا طریقہ کیا ہے؟ اس بات پر چار خواتین بھی گواہ ہیں: بہن فوزیہ، سیما،نگینہ اور سمیرا۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل نے پہلی دفعہ اپنی بیوی کے متعلق کہا کہ:"دا زما دہ اجازت نہ بغیر دہ کور نہ اووَتہ نو پہ ما بہ طلاقہ ئی"(ترجمہ: اگر یہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو یہ مجھ پر طلاق ہوگی)تو یہ الفاظ کہنے سے ایک طلاق معلّق واقع ہوگئی،جس کا مطلب یہ کہ اگر وہ بلا اجازت گھر سے نکلتی تو ایک طلاق واقع ہوجاتی،لیکن پھر اس کے بعد جب سائل(شوہر) نے بیوی کے متعلق یہ الفاظ کہے کہ: طلاقہ یے ، طلاقہ یے،طلاقہ یے"(جس کا ترجمہ ہے: تم مجھ پر طلاق ہو،طلاق ہو،طلاق ہو)، تو یہ الفاظ کہنے سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور نکاح ختم ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے ، جبکہ عورت ایامِ عدت (تین حیض،یا اگر حمل ہے تو بچہ کی پیدائش )کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،ایساکرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ دوسرا شوہر ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ پہلا شوہر دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرے،یہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط، بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ (البقرۃ آیت : 229،230)
وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (بخاري شریف، کتاب الطلاق ج:2,ص:292)
وفی تنویرالابصار:ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدااومکرھا اوھازلا اوسفیھا او سکرانا اھ(ج:3،ص:235)
وفی الھدایۃ:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(ج:2،ص:399) واللہ اعلم