بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج سے تقریباً چار سال قبل، رات کے وقت، میری اپنی زوجہ سے واٹس ایپ پر تلخ گفتگو کے دوران میں نے یہ الفاظ لکھے ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔اس کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد گفتگو دوبارہ شروع ہوئی۔ بیوی نے لکھا”میرے پاس کوئی حل نہیں ہے“۔میں نے جواب دیا”میرے پاس بھی نہیں… حل ایک ہی ہے جو تم چاہتی ہو“۔ اس پر بیوی نے تین الگ پیغامات بھیجے”ٹھیک ہے“ … ”میں“ … ”کیا“۔اس کے بعد میں نے صرف ایک لفظ لکھا”طلاق“۔
وضاحت: یہ لفظ میں نے بیوی کے لفظ ”کیا“ کے جواب میں لکھا تھا۔ یہ اُس سے پہلے والے جملے ”حل ایک ہی ہے جو تم چاہتی ہو “ کا جواب نہیں تھا، اور نہ اس میں بیوی کی خواہش کا اظہار ۔اس کے فوراً بعد میں نے یہ جملہ لکھا”شفق اللہ کی قسم یہ الفاظ تیسری بار بولتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، میں جانتا ہوں میں کیسے یہ اسٹیپ لوں گا، لیکن میں کیا کروں تم لوگوں نے مجھے مجبور کر دیا ہے“۔
اس جملے میں ”یہ اسٹیپ کیسے لوں گا“ سے میری مراد طلاق کے بعد پیش آنے والی صورتِ حال تھی یعنی اپنی بچی سے دوری برداشت کرنا۔
نیت: چار سال گزر جانے کی وجہ سے میں اُس وقت کی اپنی نیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دیانتاً یہی عرض ہے کہ نیت یاد نہیں۔
بعد کے حالات: ان پیغامات کے بعد چار سال تک ہمارے درمیان بہت زیادہ اختلافات اور مسائل رہے ہیں۔ اس عرصے کے بارے میں جو بھی تفصیل درکار ہو، عرض کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ یہ پیغامات ابھی حال ہی میں دوبارہ سامنے آئے، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا۔
میرے اشکالات:
میں نے اپنی کم علمی کے باوجود اس مسئلے پر کچھ مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے میرے ذہن میں چند اشکالات پیدا ہوئے۔ ممکن ہے میری سمجھ میں کہیں غلطی ہو، اس لیے آپ حضرات سے رہنمائی کا طالب ہوں:
۱۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں، لفظ "طلاق" صریح ہے اور صریح میں اصل انشاء ہے، اور اس سے بلا نیت طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ ظاہر کو چھوڑنا اُسی وقت درست ہوتا ہے جب کوئی قرینہ ظاہر سے قوی ہو۔ کیا اس صورت میں ایسا کوئی قرینہ موجود ہے؟
۲۔ میرے ذہن میں سب سے بڑا اشکال یہ ہے کہ یہاں خبر کا احتمال کیسے بنے گا؟ خبر تو کسی ایسی بات کی ہوتی ہے جو پہلے سے واقع ہو چکی ہو۔ اس سے پہلے تیسری طلاق دی ہی نہیں گئی تھی کہ اُس کی خبر دی جاتی۔ جو چیز وجود میں آئی ہی نہ ہو، اُس کی خبر کیسے دی جا سکتی ہے؟
اس پر خود میرا اپنا اگلا جملہ بھی دلالت کرتا ہے، میں نے لکھا ”یہ الفاظ تیسری بار بولتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے“ یعنی میں خود اُس لفظ کو تیسری طلاق ہی شمار کر رہا تھا۔ اور اسی جملے میں ”یہ اسٹیپ کیسے لوں گا“ سے مراد بھی طلاق کے بعد کی صورتِ حال (بچی سے دوری) تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میرے نزدیک طلاق اُسی وقت واقع ہو چکی تھی۔
۳۔ میں نے یہ قاعدہ پڑھا ہے کہ ”الجواب یتضمن إعادۃ السوال“ جواب میں سوال کا مضمون لوٹ آتا ہے۔ یہاں بیوی نے خود مخاطب ہو کر پوچھا ”کیا؟“ اور جواب اُسی کو دیا گیا۔ کیا اس بنا پر اضافت بیوی کی طرف ثابت نہ ہو گی، اور لفظ مجرد نہ رہے گا؟
۴۔ میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ صریح طلاق میں نیت کا اعتبار قضاءً نہیں ہوتا، صرف دیانتاً ہوتا ہے۔ ”میں تو خبر دے رہا تھا“کیا یہ بھی بذاتِ خود باطن اور نیت ہی کا دعویٰ نہیں؟ اور کیا صریح کے باب میں ایسے دعوے کا قضاءً اعتبار ہو گا؟
۵۔ جب میں خود کہہ رہا ہوں کہ نیت یاد نہیں، تو کیا اس صورت میں فیصلہ ظاہرِ لفظ پر نہ آئے گا؟
۶۔ میری معلومات کے مطابق غصہ، مذاق اور مجبوری صریح طلاق کے وقوع کو نہیں روکتے، سوائے اُس حالت کے جس میں آدمی کو اپنے کلام کا شعور ہی نہ رہے۔ کیا یہ درست ہے، اور کیا یہاں اس کا اطلاق ہو گا؟
۷۔ اگر تیسری طلاق بھی واقع ہو چکی ہے تو موجودہ شرعی حکم کیا ہے؟ اور اگر نہیں ہوئی، تو چار سال گزر جانے کے بعد اب کیا صورت ہے؟
گزارش: مجھے رعایت یا گنجائش نہیں، بلکہ حق اور سچ پر مبنی فیصلہ درکار ہے، خواہ وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔ اگر مذکورہ اشکالات کے باوجود تیسری طلاق واقع نہ ہونے کا فیصلہ ہو، تو براہِ کرم ہر اشکال کا الگ الگ، کتب کے حوالوں سے جواب عنایت فرما کر میری تشفی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کی بیوی نے میسج کیا کہ” میرے پاس کوئی حل نہیں“ اور سائل نے اس کا جواب دیا کہ” میرے پاس بھی نہیں۔۔۔ حل ایک ہی ہے جو تم چاہتی ہو“ پھر بیوی نے جواب میں تین میسج کیے، نمبر ایک: ”ٹھیک ہے“ ۔نمبر دو:” میں“۔ نمبر تین:” کیا؟“ اور سائل نے ”کیا“ والے میسج کے جواب میں ”طلاق “ کا میسج سینڈ کیا تو اس پورے پیغامات مکالمے کے سیاق و سباق سے سائل کے جوابی میسیج ” طلاق “کا مطلب و معنی یہ نکلتا ہے کہ” اس مسئلے کا حل طلاق ہے“۔ چنانچہ اس مفہوم کے لحاظ سے سائل کی بیوی کو تیسری طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس میں طلاق دینے کی کوئی بات نہیں، بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ حل طلاق میں ہے۔
جبکہ اس سے آدھا گھنٹہ قبل صریح الفاظ اور دو طلاقوں پر مشتمل جملہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ سے سائل کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہو گئی تھیں جس کے بعد اگر سائل نے دورانِ عدت (یعنی تین ماہواریاں مکمل ہونے سے قبل یا حمل کی صورت میں ولادت سے قبل )رجوع کر لیا تھا یا ازدواجی تعلقات قائم کر لیے تھے تو یہ رجوع بھی درست ہو کر سائل کا نکاح برقرار رہا ہے اور اب آئندہ کے لئے صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا ہے اس لئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
جہاں تک” طلاق“ کے میسج سے متعلق نیت کی بات ہے تو اگر سائل کو اس بات کا یقین نہیں کہ اس نے یہ میسج ایک نئی طلاق کی نیت سے بھیجا تھا تو اب یاد نہ ہونے یا شک کی بنیاد پر تیسری طلاق واقع شمار نہیں ہوگی۔جبکہ طلاق کے مزید مسائل جاننے کے لئے کسی مستند مفتی کی خدمت میں حاضر ہو کر بالمشافہ اپنے خیالات سامنے رکھتے ہوئے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ از خود گہرائی میں جا کر مطالعہ کرنے سے احتراز کی ضرورت ہے۔
و فی البحر المحیط فی اصول الفقہ: ولا بد في ذلك من تفصيل، وهو أن الخطاب إما أن يكون جوابا لسؤال سائل أم لا؟ . فإن كان جوابا، فإما أن يستقل بنفسه أو لا، فإن لم يستقل بحيث لا يصح الابتداء به فلا خلاف في أنه تابع للسؤال في عمومه وخصوصه، حتى كأن السؤال معاد فيه، فإن كان السؤال عاما فعام أو خاصا فخاص. الخ (المسألة الثانية صحة دعوى العموم فيما جاء من الشارع ابتداء ج: 4 ص: 269 ط: دار الكتبي)۔
و فی الدر المختار: و في الأشباه: القاعدة الحادية عشرة: السؤال معاد في الجواب، قال: امرأة زيد طالق أو عبده حر أو عليه المشي لبيت الله إن فعل كذا و قال زيد: نعم كان حالفًا إلى آخره. الخ (کتاب الأیمان فروع قال لغيره: والله لتفعلن كذا فهو حالف ج:3 ص:851 ط: سعید۔باکستان)۔
و فی الاشباہ والنظائر: ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم یقع. شك أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي. (الأشباه والنظائر في الفقه الحنفي 64۔60 قاعدة: من شك هل فعل أم لا؟ القاعدة الثالثة)۔
و فی الدر المختار: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل الخ
وفي الشامیۃ تحت(قوله بنى على الأقل) أي كما ذكره الإسبيجابي، إلا أن يستيقن بالأكثر أو يكون أكبر ظنه. وعن الإمام الثاني إذا كان لا يدري أثلاث أم أقل يتحرى؛ وإن استويا عمل بأشد ذلك عليه؛ أشباه عن البزازية قال ط: وعلى قول الثاني اقتصر قاضي خان؛ ولعله لأنه يعمل بالاحتياط خصوصا في باب الفروج. اهـ. قلت: ويمكن حمل الأول على القضاء والثاني على الديانة الخ (کتاب الطلاق باب صریح الطلاق ج:3 ص:283 ط: سعید کراتشی)۔