کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مسمٰی شاکر ولد حسنین شاہ نے کچھ گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی مسماۃ رحمانیہ کو چار مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں ، پہلے تین مرتبہ بغیر نام لئے کہاکہ "تہ پہ ما طلاقہ ئے" تم مجھ پر طلاق ہو، پھر نام لیکر کہا کہ رحمانیہ "تہ پہ ما طلاقہ ئے" جبکہ گھر والی کا کہنا ہے کہ میں نے صرف دو مرتبہ سنا ہے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ،اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لئے بیوی کا نام لینا ،یااس کا الفاظِ طلاق سننا شرعاً ضروری نہیں ،بلکہ اس کے بغیر بھی دی جانے والی طلاق شرعاً واقع ہوجاتی ہے ،لہذاصورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "تہ پہ ما طلاقہ ئے" (تم مجھ پر طلاق ہو) تین دفعہ بول دئیے ، اگرچہ اس کی بیوی نے فقط دو دفعہ طلاق کا لفظ سنا ہو، اور تیسری دفعہ نہ سنا ہو، تب بھی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتاہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد کسی بھی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
تاہم اگر سائل اور اس کی بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں ،تو اس کے لئے حلالہ شرعیہ ضروری ہے،اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان شخص سےنکاح کرے،اور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلےشوہرکا انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے، اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےتقرر کےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرتے ہوئےعقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوج ثانی بیوی کو نکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلیے دوبارہ حلال ہوجائے،مکروہ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(سورۃ البقرہ:آیت نمبر:230)۔
و في الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھـ (ج :2ص 10/الناشر المكتبة الإسلامية)۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا اھ(ج1/ص 355/ الناشر دار الفكر)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(ج1/ص 355/ الناشر دار الفكر)۔
وفی تنویرالابصار:ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدااومکرھا اوھازلا اوسفیھا او سکرانا اھ (كتاب الطلاق، جلد:3، صفحه:235، طبع:سعید)۔
وفی الشامیہ: ركن الطلاق(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية اھ (كتاب الطلاق، جلد:3،صفحه:230ِ، طبع:سعید)۔